مشكوة المصابيح
كتاب العتق— كتاب العتق
(ثَوَابُ الْعِبَادَةِ الْمَالِيَّةِ يَصِلُ إِلَى الْمَيِّتِ) باب: مالی عبادت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ فَأَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ فَمَاتَتْ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ: أَتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نعم» . رَوَاهُ مَالكعبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اسے صبح تک مؤخر کر دیا، سو وہ فوت ہو گئیں، عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں، میں نے قاسم بن محمد سے کہا: اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کر دوں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا؟ قاسم نے کہا: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا: میری والدہ فوت ہو گئیں ہیں، اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں۔ ‘‘ حسن، رواہ مالک۔