مشكوة المصابيح
كتاب النكاح— كتاب النكاح
(مُشَاهَدَةُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِلْعَبِ الْحَبَشِيِّ مِنْ خَلْفِ سِتْرٍ) باب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا آڑ سے حبشیوں کا کھیل دیکھنا
وَعَنْهَا قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِالْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بردائه لِأَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ بَيْنَ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ على اللَّهْوعائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، اللہ کی قسم! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے دیکھا جبکہ حبشی مسجد میں چھوٹے نیزوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی چادر سے مجھے چھپا رہے تھے تاکہ میں آپ کے کان اور گردن کے بیچ سے ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہتے حتی کہ میں ہی وہاں سے ہٹتی تھی، تم نو عمر، کھیل سے شغف رکھنے والی، لڑکی کے کھڑے ہونے کا اندازہ کر لو۔ (کہ وہ کتنی دیر کھڑی ہو سکتی ہے۔ ) متفق علیہ۔