مشكوة المصابيح
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
(مِعْيَارُ الوَلَاءِ وَالعَدَاوَةِ) باب: دوستی اور دشمنی کا معیار
حدیث نمبر: 31
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ مَعَ تَقْدِيمٍ وَتَأْخِير وَفِيه: «فقد اسْتكْمل إيمَانه»الشیخ عبدالستار الحماد
اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ اسے یوں روایت کیا ہے: ’’اس شخص نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔ ‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´دوستی اور دشمنی کا معیار`
«. . . عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ مَعَ تَقْدِيمٍ وَتَأْخِير وَفِيه: «فقد اسْتكْمل إيمَانه» . . .»
”. . . سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر ہے، اس میں ہے کہ اس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 31]
«. . . عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ مَعَ تَقْدِيمٍ وَتَأْخِير وَفِيه: «فقد اسْتكْمل إيمَانه» . . .»
”. . . سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر ہے، اس میں ہے کہ اس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 31]
تخریج الحدیث:
[سنن ترمذي 2521]، [حاكم 164/2]
تحقیق الحدیث: اس حدیث کی سند حسن ہے۔
اسے حاکم [164/2] اور ذھبی نے شیخین کی شرط [!] پر صحیح کہا ہے۔
اسے «هذا حديث منكر» کہنا غلط ہے۔
[سنن ترمذي 2521]، [حاكم 164/2]
تحقیق الحدیث: اس حدیث کی سند حسن ہے۔
اسے حاکم [164/2] اور ذھبی نے شیخین کی شرط [!] پر صحیح کہا ہے۔
اسے «هذا حديث منكر» کہنا غلط ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 31 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2521 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اللہ کی رضا کے لیے دیا اور اللہ کی رضا کے لیے روکا اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے محبت کی، اور اللہ کی رضا کے لیے عداوت و دشمنی کی اور اللہ کی رضا کے لیے نکاح کیا تو یقیناً اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2521]
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اللہ کی رضا کے لیے دیا اور اللہ کی رضا کے لیے روکا اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے محبت کی، اور اللہ کی رضا کے لیے عداوت و دشمنی کی اور اللہ کی رضا کے لیے نکاح کیا تو یقیناً اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2521]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(امام ترمذی نے اسے منکر کہا ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 380)
نوٹ:
(امام ترمذی نے اسے منکر کہا ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 380)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2521 سے ماخوذ ہے۔