مشكوة المصابيح
كتاب البيوع— كتاب البيوع
(إِذَا لَمْ تَضِعِ الشَّيْءُ المَأْخُوذُ بِالنَّسِيئَةِ) باب: ادھاری چیز ضائع نہ ہو جائے تو
حدیث نمبر: 2955
وَعَن أُميَّة بن صَفْوَان عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدَ؟ قَالَ: «بَلْ عَارِيَةً مَضْمُونَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدالشیخ عبدالستار الحماد
امیہ بن صوان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر اس سے کچھ زریں مستعار لیں تو اس نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! غصب کے طور پر لینا چاہتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ قابل واپسی، ادھار کے طور پر۔ ‘‘ سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔