مشكوة المصابيح
كتاب العلم— علم کا بیان
(الاعْتِرَافُ بِالجَهْلِ لَيْسَ عَيْبًا) باب: لاعلمی کا اعتراف کوئی عیب نہیں
حدیث نمبر: 273
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌالشیخ عبدالستار الحماد
ابن سرین رحمہ اللہ نے فرمایا: بے شک یہ علم دین ہے، پس تم دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کرتے ہو۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´لاعلمی کا اعتراف کوئی عیب نہیں`
«. . . وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ . . .»
”. . . سیدنا ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (کتاب و سنت کا علم) علم دین ہے۔ لہٰذا تم دیکھ لیا کرو کہ تم کس سے اپنا دین سیکھ رہے ہو۔ [مسلم] . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 273]
«. . . وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ . . .»
”. . . سیدنا ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (کتاب و سنت کا علم) علم دین ہے۔ لہٰذا تم دیکھ لیا کرو کہ تم کس سے اپنا دین سیکھ رہے ہو۔ [مسلم] . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 273]
فقه الحديث:
➊ صحیح العقیدہ اور ثقہ و صدوق علماء سے ہی علم سیکھنا اور دینی مسائل کا حل پوچھنا چاہئے۔
➋ دین کا دارومدار سندوں پر ہے، لہٰذا ہر بےسند بات مردود ہے۔
➌ اہل بدعت سے اجتناب کرنا چاہئے۔
➍ آثار سے استدلال جائز بلکہ مستحسن ہے۔
➎ اثر مذکور صحیح مسلم کے مقدمہ میں ہے اور اس کی سند امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔
➏ اپنے متعلقین اور عام لوگوں کی تربیت کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے۔
➊ صحیح العقیدہ اور ثقہ و صدوق علماء سے ہی علم سیکھنا اور دینی مسائل کا حل پوچھنا چاہئے۔
➋ دین کا دارومدار سندوں پر ہے، لہٰذا ہر بےسند بات مردود ہے۔
➌ اہل بدعت سے اجتناب کرنا چاہئے۔
➍ آثار سے استدلال جائز بلکہ مستحسن ہے۔
➎ اثر مذکور صحیح مسلم کے مقدمہ میں ہے اور اس کی سند امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔
➏ اپنے متعلقین اور عام لوگوں کی تربیت کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 273 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 7 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
محمد بن سیرینؒ کا قول ہے: ’’کہ یہ علم (علمِ حدیث) دین ہے، لہٰذا سوچ لو تم کن سے اپنا دین لیتے ہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:26]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
جس طرح حیوان (جانور)
پاؤں کے بغیر نہیں چل سکتا، اس طرح حدیث بلا سند قبول نہیں کی جاسکتی۔
اگر سند کا سوال نہ ہوتا تو ہرشخص بلاتحقیق وتفتیش بات سنتا اور آگے بیان کر دیتا، اوروہ دین ٹھہرتی، اس طرح دین کی حفاظت ودفاع سند سے ہو سکتی ہے، اس کے بغیر اس کو آمیزش اور بدعات سے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔
جس طرح حیوان (جانور)
پاؤں کے بغیر نہیں چل سکتا، اس طرح حدیث بلا سند قبول نہیں کی جاسکتی۔
اگر سند کا سوال نہ ہوتا تو ہرشخص بلاتحقیق وتفتیش بات سنتا اور آگے بیان کر دیتا، اوروہ دین ٹھہرتی، اس طرح دین کی حفاظت ودفاع سند سے ہو سکتی ہے، اس کے بغیر اس کو آمیزش اور بدعات سے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7 سے ماخوذ ہے۔