عَن عَوْنٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ صَاحِبُ الْعِلْمِ وَصَاحِبُ الدُّنْيَا وَلَا يَسْتَوِيَانِ أَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ فَيَزْدَادُ رِضًى لِلرَّحْمَنِ وَأَمَّا صَاحِبُ الدُّنْيَا فَيَتَمَادَى فِي الطُّغْيَانِ. ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ (كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى) قَالَ وَقَالَ الْآخَرُ (إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عباده الْعلمَاء. رَوَاهُ الدَّارمِيّ عون رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’دو بھوکے حریص لوگ سیر نہیں ہوتے صاحب علم اور صاحب دنیا، اور یہ دونوں برابر بھی نہیں ہو سکتے، رہا صاحب علم تو وہ رحمان کی رضا مندی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، اور رہا صاحب دنیا تو وہ سرکشی میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’ہاں بلاشبہ انسان سرکش ہو جاتا ہے، جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے۔ ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں، انہوں نے دوسرے کے لیے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’بات صرف یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے علما ہی اس سے ڈرتے ہیں۔ ‘‘ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔