حدیث نمبر: 245
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا أَوَانٌ يُخْتَلَسُ فِيهِ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ على شَيْء» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّالشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا: ’’یہ وہ وقت ہے جس میں لوگوں سے علم سلب کر لیا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس سے کسی چیز پر بھی قدرت نہیں رکھیں گے۔ ‘‘اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´حصول علم کی ترغیب`
«. . . وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا أَوَانٌ يُخْتَلَسُ فِيهِ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ على شَيْء» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ . . .»
”. . . سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا کہ یہ وقت ہے چھین لیا جائے علم لوگوں سے یہاں تک کہ وہ کسی چیز قادر نہیں ہوں گے۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں لفظ ”علم“ سے وحی الہیٰ مراد ہے۔ (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بارے میں فرما رہے ہیں کہ میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا اور وحی کا سلسلہ بند ہو جائے گا)۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 245]
«. . . وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا أَوَانٌ يُخْتَلَسُ فِيهِ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ على شَيْء» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ . . .»
”. . . سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا کہ یہ وقت ہے چھین لیا جائے علم لوگوں سے یہاں تک کہ وہ کسی چیز قادر نہیں ہوں گے۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں لفظ ”علم“ سے وحی الہیٰ مراد ہے۔ (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بارے میں فرما رہے ہیں کہ میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا اور وحی کا سلسلہ بند ہو جائے گا)۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 245]
تحقيق الحديث:
اس کی سند حسن ہے۔
اسے حاکم [1؍99 ح338] اور ذہبی دونوں نے صحیح قرار دیا اور اس کی دوسری سند مسند احمد [6؍26۔ 27] میں ہے، جسے ابن حبان [115] حاکم [1؍98۔ 99 ح337] اور ذہبی تینوں نے صحیح قرار دیا اور اس کی سند حسن ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور وحی کے اختتام کی طرف اشارہ ہے۔
➋ امت کے بعض حصے میں بدعات اور گمراہیاں پیدا ہوں گی، جن کے پھیلنے کا اصل سبب عدم علم اور جہالت ہو گی۔ «أعاذنا الله منها»
➌ قیامت سے پہلے جہالت کا دور دورہ ہو گا۔
اس کی سند حسن ہے۔
اسے حاکم [1؍99 ح338] اور ذہبی دونوں نے صحیح قرار دیا اور اس کی دوسری سند مسند احمد [6؍26۔ 27] میں ہے، جسے ابن حبان [115] حاکم [1؍98۔ 99 ح337] اور ذہبی تینوں نے صحیح قرار دیا اور اس کی سند حسن ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور وحی کے اختتام کی طرف اشارہ ہے۔
➋ امت کے بعض حصے میں بدعات اور گمراہیاں پیدا ہوں گی، جن کے پھیلنے کا اصل سبب عدم علم اور جہالت ہو گی۔ «أعاذنا الله منها»
➌ قیامت سے پہلے جہالت کا دور دورہ ہو گا۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 245 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2653 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´علم کے ختم ہو جانے کا بیان۔`
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک آپ نے اپنی نظریں آسمان پر گاڑ دیں، پھر فرمایا: ” ایسا وقت (آ گیا) ہے کہ جس میں لوگوں کے سینوں سے علم اچک لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے پاس کچھ بھی علم نہیں ہو گا، زیاد بن لبید انصاری نے کہا: (اللہ کے رسول!) علم ہم سے کس طرح چھین لیا جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہوں گے۔ قسم اللہ کی! ہم ضرور اسے پڑھیں گے اور ہم ضرور اپنی عورتوں کو اسے پڑھائیں گے اور اپنے بچوں کو سکھائیں گے۔ آپ نے فرمایا: ” اے زیاد تمہاری ماں تمہیں کھو دے! میں تو تمہیں اہل مدینہ کے فقہاء می۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2653]
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک آپ نے اپنی نظریں آسمان پر گاڑ دیں، پھر فرمایا: ” ایسا وقت (آ گیا) ہے کہ جس میں لوگوں کے سینوں سے علم اچک لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے پاس کچھ بھی علم نہیں ہو گا، زیاد بن لبید انصاری نے کہا: (اللہ کے رسول!) علم ہم سے کس طرح چھین لیا جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہوں گے۔ قسم اللہ کی! ہم ضرور اسے پڑھیں گے اور ہم ضرور اپنی عورتوں کو اسے پڑھائیں گے اور اپنے بچوں کو سکھائیں گے۔ آپ نے فرمایا: ” اے زیاد تمہاری ماں تمہیں کھو دے! میں تو تمہیں اہل مدینہ کے فقہاء می۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2653]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ان کتابوں نے انہیں کیا فائدہ پہنچایا؟ جس طرح یہود و نصاریٰ تورات و انجیل کو پا کر اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے، قرب قیامت میں یہی حال تم مسلمانوں کا بھی ہو گا، کیوں کہ تمہارے اچھے علماء ختم ہو جائیں گے، اور قرآن تمہارے پاس ہو گا، پھر بھی تم اس کے فیض سے محروم رہو گے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی ان کتابوں نے انہیں کیا فائدہ پہنچایا؟ جس طرح یہود و نصاریٰ تورات و انجیل کو پا کر اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے، قرب قیامت میں یہی حال تم مسلمانوں کا بھی ہو گا، کیوں کہ تمہارے اچھے علماء ختم ہو جائیں گے، اور قرآن تمہارے پاس ہو گا، پھر بھی تم اس کے فیض سے محروم رہو گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2653 سے ماخوذ ہے۔