حدیث نمبر: 244
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْآنَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّالشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’علم میراث اور قرآن کی تعلیم حاصل کرو اور لوگوں کو سکھاؤ، کیونکہ عنقریب میری روح قبض کر لی جائے گی: ‘‘اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´حصول علم کی ترغیب`
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْآنَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرائض اور قرآن مجید کو سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لئے کہ میں اٹھا لیا جاؤں گا میری روح قبض کی جانے والی ہے۔“ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 244]
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْآنَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرائض اور قرآن مجید کو سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لئے کہ میں اٹھا لیا جاؤں گا میری روح قبض کی جانے والی ہے۔“ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 244]
تحقیق الحدیث:
ضعیف روایت ہے۔
سنن ترمذی والی سند سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے: ➊ ابوابراہیم محمد بن القاسم الاسدی الکوفی الشامی عرف کاؤ کے بارے میں حافظ ابن حجر نے کہا: «كذبوه»
”محدثین نے اسے کذاب قرار دیا ہے۔“ [تقريب التهذيب: 6229]
◄ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: «يكذب، أحاديثه أحاديث موضوعة، ليس بشئ»
”وہ جھوٹ بولتا تھا، اس کی حدیثیں موضوع ہیں، وہ کوئی چیز نہیں ہے۔“ [كتاب العلل ومعرفة الرجال 1؍300 فقره 1813، دوسرا نسخه 2؍171 فقره 1899]
➋ فضل بن دلہم القصاب البصری الواسطی «لين ورمي بالاعتزال» تھا، یعنی وہ ضعیف تھا، محدثین نے اسے معتزلی قرار دیا۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 5402]
◄ اس کی دوسری سند میں سلیمان بن جابر اور اس کا شاگرد (رجل) دونوں مجہول ہیں۔ ديكهئے: [تقريب التهذيب: 2541]، [سنن ابن ماجه 2719] وغیرہ میں اس روایت کے ضعیف شواہد بھی ہیں جن کے ساتھ یہ روایت ضعیف ہی ہے۔
ضعیف روایت ہے۔
سنن ترمذی والی سند سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے: ➊ ابوابراہیم محمد بن القاسم الاسدی الکوفی الشامی عرف کاؤ کے بارے میں حافظ ابن حجر نے کہا: «كذبوه»
”محدثین نے اسے کذاب قرار دیا ہے۔“ [تقريب التهذيب: 6229]
◄ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: «يكذب، أحاديثه أحاديث موضوعة، ليس بشئ»
”وہ جھوٹ بولتا تھا، اس کی حدیثیں موضوع ہیں، وہ کوئی چیز نہیں ہے۔“ [كتاب العلل ومعرفة الرجال 1؍300 فقره 1813، دوسرا نسخه 2؍171 فقره 1899]
➋ فضل بن دلہم القصاب البصری الواسطی «لين ورمي بالاعتزال» تھا، یعنی وہ ضعیف تھا، محدثین نے اسے معتزلی قرار دیا۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 5402]
◄ اس کی دوسری سند میں سلیمان بن جابر اور اس کا شاگرد (رجل) دونوں مجہول ہیں۔ ديكهئے: [تقريب التهذيب: 2541]، [سنن ابن ماجه 2719] وغیرہ میں اس روایت کے ضعیف شواہد بھی ہیں جن کے ساتھ یہ روایت ضعیف ہی ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 244 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2091 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´علم فرائض سکھانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن اور علم فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2091]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن اور علم فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2091]
اردو حاشہ:
نوٹ1: (سند میں شہر بن حوشب اور محمد بن قاسم اسدی دونوں ضعیف ہیں، اسدی کی بعض لوگوں نے تکذیب تک کی ہے، الإرواء: 1664، 1665)
نوٹ2: (سند میں اضطراب ہے، جس کی طرف مؤلف نے اشارہ کیا اور اس کی تفصیل نسائی میں ہے، حافظ ابن حجر کے نزدیک سند میں اختلاف کا سبب عوف ہیں، النکت الظراف، الإرواء: 1664)
نوٹ1: (سند میں شہر بن حوشب اور محمد بن قاسم اسدی دونوں ضعیف ہیں، اسدی کی بعض لوگوں نے تکذیب تک کی ہے، الإرواء: 1664، 1665)
نوٹ2: (سند میں اضطراب ہے، جس کی طرف مؤلف نے اشارہ کیا اور اس کی تفصیل نسائی میں ہے، حافظ ابن حجر کے نزدیک سند میں اختلاف کا سبب عوف ہیں، النکت الظراف، الإرواء: 1664)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2091 سے ماخوذ ہے۔