مشكوة المصابيح
كتاب الدعوات— كتاب الدعوات
(دُخُولُ الجَنَّةِ نِعْمَةٌ كَامِلَةٌ) باب: جنت کا داخلہ پوری نعمت ہے
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو يَقُولُ: اللهُمَّ إِني أسألكَ تمامَ النعمةِ فَقَالَ: «أيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» قَالَ: دَعْوَةٌ أَرْجُو بِهَا خَيْرًا فَقَالَ: «إِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ» . وَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ: «قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ» . وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ فَقَالَ: «سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَاسْأَلْهُ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّمعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا: ’’اے اللہ! میں تجھ سے اتمام نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ ‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کون سی چیز اتمام نعمت ہے؟‘‘ اس نے کہا: دعا جس کے ذریعے میں خیر (مال کثیر) کی امید کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اتمام نعمت تو جنت میں داخلہ اور جہنم سے خلاصی ہے۔ ‘‘ اور آپ نے کسی دوسرے آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا: ’’اے جلال و اکرام والے!‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہاری دعا قبول ہو گئی، اب سوال کرو۔ ‘‘ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا: ’’اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔ ‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے، اس سے عافیت کا سوال کرو۔ ‘‘ حسن، رواہ الترمذی۔