مشكوة المصابيح
كتاب الدعوات— كتاب الدعوات
(مَا هُوَ خَيْرُ مَالِ الْإِنْسَانِ؟) باب: انسان کا بہترین مال کیا ہے
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَب وَالْفِضَّة) كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: نَزَلَتْ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ لَوْ عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِذَهُ؟ فَقَالَ: «أَفْضَلُهُ لِسَانٌ ذَاكِرٌ وَقَلْبٌ شَاكِرٌ وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یہ آیت (وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ) نازل ہوئی تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں شریک تھے، تو آپ کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سونے اور چاندی کے بارے میں تو آیت نازل ہو گئی، کاش! ہم جان لیں کہ کون سا مال بہتر ہے تاکہ ہم اسے حاصل کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’سب سے افضل مال ذکر کرنے والی زبان، قلب شاکر اور مومنہ شریک حیات جو اس کے ایمان کے بارے میں اس کی معاونت کرے۔ سندہ ضعیف، رواہ احمد (۵/ ۲۷۸ ح ۲۲۷۵۱) و الترمذی (۳۰۹۴) و ابن ماجہ (۱۸۵۶)۔