حدیث نمبر: 220
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يرجع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارميالشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص طلب علم کے لیے سفر کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک اللہ کی راہ میں رہتا ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´اہل علم کی فضیلت`
«. . . وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يرجع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي . . .»
”. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے باہرنکلا وہ اللہ کے راستہ میں ہے یہاں تک کہ وہ واپس آ جائے۔“ اس حدیث کو ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 220]
«. . . وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يرجع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي . . .»
”. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے باہرنکلا وہ اللہ کے راستہ میں ہے یہاں تک کہ وہ واپس آ جائے۔“ اس حدیث کو ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 220]
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
◄ اس روایت کے راوی خالد بن یزید العتکی، ابوجعفر الرازی اور ربیع بن انس تینوں جمہور محدثین کی توثیق کی وجہ سے حسن الحدیث تھے، لیکن: حافظ ابن حبان نے ربیع بن انس کے بارے میں فرمایا: «والناس يتقون حديثه ما كان من رواية ابي جعفر عنه لان فيها اضطراب كثير»
”اور اس (ربیع بن انس) سے ابوجعفر (الرازی) کی روایت سے لوگ بچتے ہیں، کیونکہ اس میں بہت اضطراب ہے۔“ [كتاب الثقات ج 4ص 228]
↰ یہ خاص جرح ہے، لہٰذا عام تعدیل پر مقدم ہے، یعنی ربیع بن انس سے ابوجعفر الرازی کی بیان کردہ روایات ضعیف ہیں اور دوسرے ثقہ و صدوق راویوں کی بیان کردہ روایات حسن یا صحیح ہیں۔
تنبیہ:
دارمی والا حوالہ نہیں ملا۔ «والله اعلم»
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
◄ اس روایت کے راوی خالد بن یزید العتکی، ابوجعفر الرازی اور ربیع بن انس تینوں جمہور محدثین کی توثیق کی وجہ سے حسن الحدیث تھے، لیکن: حافظ ابن حبان نے ربیع بن انس کے بارے میں فرمایا: «والناس يتقون حديثه ما كان من رواية ابي جعفر عنه لان فيها اضطراب كثير»
”اور اس (ربیع بن انس) سے ابوجعفر (الرازی) کی روایت سے لوگ بچتے ہیں، کیونکہ اس میں بہت اضطراب ہے۔“ [كتاب الثقات ج 4ص 228]
↰ یہ خاص جرح ہے، لہٰذا عام تعدیل پر مقدم ہے، یعنی ربیع بن انس سے ابوجعفر الرازی کی بیان کردہ روایات ضعیف ہیں اور دوسرے ثقہ و صدوق راویوں کی بیان کردہ روایات حسن یا صحیح ہیں۔
تنبیہ:
دارمی والا حوالہ نہیں ملا۔ «والله اعلم»
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 220 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2647 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے نکلے تو وہ لوٹنے تک اللہ کی راہ میں (شمار) ہو گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2647]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے نکلے تو وہ لوٹنے تک اللہ کی راہ میں (شمار) ہو گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2647]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کے برابر ہے۔
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کے برابر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2647 سے ماخوذ ہے۔