مشكوة المصابيح
كتاب فضائل القرآن— كتاب فضائل القرآن
(بَيَانُ فَضِيلَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ) باب: سورۂ بقرہ اور آل عمران کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2121
وَعَن النواس بن سمْعَان قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تحاجان عَن صَاحبهمَا» . رَوَاهُ مُسلمالشیخ عبدالستار الحماد
نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’قرآن اور اس پر عمل کرنے والوں کو روز قیامت لایا جائے گا، سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران اس (قرآن کی سورتوں) کے آگے ہوں گی گویا وہ سیاہ بادل ہیں یا دو سائبان ہیں ان کے درمیان روشنی ہے، یا وہ پرندوں کے دو غول ہیں جو صفیں باندھے ہوئے اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔ ‘‘ رواہ مسلم۔