مشكوة المصابيح
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
(كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) باب: کلام نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
حدیث نمبر: 195
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَامِي لَا يَنْسَخُ كَلَامَ اللَّهِ وَكَلَامُ اللَّهِ يَنْسَخُ كَلَامِي وَكَلَامُ اللَّهِ يَنْسَخُ بعضه بَعْضًا»الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ نے فرمایا: ’’میرا کلام، اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کر سکتا، جبکہ اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کر سکتا ہے اور اور اللہ کا کلام ایک دوسرے کو منسوخ کر سکتا ہے۔ ‘‘ اس کو دارقطنی نے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
«كلامي لا ينسخ كلام الله» والی روایت موضوع ہے
سوال: ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كلامي لا ينسخ كلامَ الله، وكلامُ الله ينسخ كلامي، وكلامُ الله ينسخ بعضه بعضًا“» میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا، اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے اور اللہ کے کلام کا بعض اپنے بعض کو منسوخ کرتا ہے۔ [مشكوٰة المصابيح: 195]
کیا یہ روایت صحیح ہے؟
الجواب: مشکوٰۃ میں یہ روایت بحوالہ (سنن) دارقطنی [4/ 145 ح 4233] مذکور ہے۔
اسے دارقطنی، ابن عدی [الكامل 2/ 602 دوسرانسخه 2/ 443] اور ابن الجوزی [العلل المتناهيه 1/ 125 ح 190] نے «جبرون بن واقد: حدثناسفيان بن عيينة عن أبى الزبير عن جابر» کی سند سے روایت کیا ہے۔
ابن عدی نے کہا: «منكر» یہ حدیث منکر ہے۔ نیز دیکھئے: [ذخيرة الحفاظ: 4406]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں کہا: «موضوع» ۔ [ميزان الاعتدال 1/ 388]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس فیصلے کو لسان المیزان میں برقرار رکھا ہے۔ دیکھئے: [اللسان 2/ 94]
جبرون بن واقد کے بارے میں ذہبی نے کہا: «ليس بثقة» وہ ثقہ نہیں ہے۔ [ديوان الضعفاء والمتروكين: 722، المغني فى الضعفاء: 1089]
اور کہا: «متهم فإنه روي بقلة حياء… .» یہ (وضعِ حدیث کے ساتھ) متہم ہے کیونکہ اس نے (یہ روایت) بے حیائی سے بیان کی…۔ [ميزان الاعتدال 1/ 387، 388]
«مُتهم» سے مراد «متهم بالوضع» ہے۔ [الكشف الحثيث عمن ر مي بوضع الحديث ص 122]
کسی ایک محدث نے بھی اس راوی کی توثیق نہیں کی ہے۔
خلاصۃ التحقیق:
یہ روایت جبرون بن واقد کی وجہ سے موضوع ہے۔ (10 ربیع الثانی 1427ھ)
. . . تفصیل کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث: 26 صفحہ 48
سوال: ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كلامي لا ينسخ كلامَ الله، وكلامُ الله ينسخ كلامي، وكلامُ الله ينسخ بعضه بعضًا“» میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا، اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے اور اللہ کے کلام کا بعض اپنے بعض کو منسوخ کرتا ہے۔ [مشكوٰة المصابيح: 195]
کیا یہ روایت صحیح ہے؟
الجواب: مشکوٰۃ میں یہ روایت بحوالہ (سنن) دارقطنی [4/ 145 ح 4233] مذکور ہے۔
اسے دارقطنی، ابن عدی [الكامل 2/ 602 دوسرانسخه 2/ 443] اور ابن الجوزی [العلل المتناهيه 1/ 125 ح 190] نے «جبرون بن واقد: حدثناسفيان بن عيينة عن أبى الزبير عن جابر» کی سند سے روایت کیا ہے۔
ابن عدی نے کہا: «منكر» یہ حدیث منکر ہے۔ نیز دیکھئے: [ذخيرة الحفاظ: 4406]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں کہا: «موضوع» ۔ [ميزان الاعتدال 1/ 388]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس فیصلے کو لسان المیزان میں برقرار رکھا ہے۔ دیکھئے: [اللسان 2/ 94]
جبرون بن واقد کے بارے میں ذہبی نے کہا: «ليس بثقة» وہ ثقہ نہیں ہے۔ [ديوان الضعفاء والمتروكين: 722، المغني فى الضعفاء: 1089]
اور کہا: «متهم فإنه روي بقلة حياء… .» یہ (وضعِ حدیث کے ساتھ) متہم ہے کیونکہ اس نے (یہ روایت) بے حیائی سے بیان کی…۔ [ميزان الاعتدال 1/ 387، 388]
«مُتهم» سے مراد «متهم بالوضع» ہے۔ [الكشف الحثيث عمن ر مي بوضع الحديث ص 122]
کسی ایک محدث نے بھی اس راوی کی توثیق نہیں کی ہے۔
خلاصۃ التحقیق:
یہ روایت جبرون بن واقد کی وجہ سے موضوع ہے۔ (10 ربیع الثانی 1427ھ)
. . . تفصیل کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث: 26 صفحہ 48
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔