مشكوة المصابيح
كتاب الجنائز— كتاب الجنائز
(لاَ تُؤْذِي الْمَرِيضَ بِالصُّوْتِ الْعَالِي) باب: اونچی آواز سے مریض کو تکلیف نہ پہنچائی جائے
حدیث نمبر: 1589
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ تَخْفِيفُ الْجُلُوسِ وَقِلَّةُ الصَّخَبِ فِي الْعِيَادَةِ عِنْدَ الْمَرِيضِ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَ لَغَطُهُمْ وَاخْتِلَافُهُمْ: «قُومُوا عَنِّي» رَوَاهُ رزينالشیخ عبدالستار الحماد
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مریض کی عیادت کرتے وقت اس کے پاس مختصر وقت کے لیے بیٹھنا اور شور کم کرنا سنت ہے۔ انہوں نے بیان کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان کا شور اور اختلاف زیادہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے پاس سے چلے جاؤ۔ ‘‘ لااصل لہ، رواہ رزین (لم اجدہ)۔