مشكوة المصابيح
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
(مَنْ يَدْفِنُ الأَطْفَالَ أَحْيَاءً) باب: بچوں کو زندہ دفن کرنے والا
حدیث نمبر: 112
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الوائدة والموؤدة فِي النَّار ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدالشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’زندہ درگور کرنے والی اور جس کی خاطر زندہ درگور کیا گیا جہنمی ہیں۔ ‘‘ اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´بچوں کو زندہ دفن کرنے والا`
«. . . وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الوائدة والموؤدة فِي النَّار \". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد . . .»
”. . . سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وائد» یعنی زندہ بچوں کو دفن کرنے والا اور «موؤده» جس کے حکم سے زندہ گاڑا گیا ہے دونوں دوزخی ہیں۔“ اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 112]
تخریج الحدیث:
[سنن ابي داود 4717]
«. . . وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الوائدة والموؤدة فِي النَّار \". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد . . .»
”. . . سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وائد» یعنی زندہ بچوں کو دفن کرنے والا اور «موؤده» جس کے حکم سے زندہ گاڑا گیا ہے دونوں دوزخی ہیں۔“ اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 112]
تخریج الحدیث:
[سنن ابي داود 4717]
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔
● زکریا بن ابی زائدہ نے سماع کی تصریح کر دی ہے اور ان کی ابواسحاق عمرو بن السبیعی سے روایت صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ہے، لہٰذا اس روایت میں اختلاط کا الزام غلط ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ کفار کی اولاد کا وہی حکم ہے جو ان کے والدین کا ہے۔
➋ اگر کوئی کافر مظلوم مارا جائے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے گا۔
➌ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ ایک معین شخص کے بارے میں خاص واقعہ ہے۔ «والله اعلم»
➍ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [ح 93 الحديث: 36ص9]
➎ یہ روایت سنن ترمذی میں نہیں ملی اور مشکوٰۃ کے بعض نسخوں میں صرف «رواه أبوداود» لکھا ہوا ہے اور یہی راجح ہے۔
اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔
● زکریا بن ابی زائدہ نے سماع کی تصریح کر دی ہے اور ان کی ابواسحاق عمرو بن السبیعی سے روایت صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ہے، لہٰذا اس روایت میں اختلاط کا الزام غلط ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ کفار کی اولاد کا وہی حکم ہے جو ان کے والدین کا ہے۔
➋ اگر کوئی کافر مظلوم مارا جائے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے گا۔
➌ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ ایک معین شخص کے بارے میں خاص واقعہ ہے۔ «والله اعلم»
➍ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [ح 93 الحديث: 36ص9]
➎ یہ روایت سنن ترمذی میں نہیں ملی اور مشکوٰۃ کے بعض نسخوں میں صرف «رواه أبوداود» لکھا ہوا ہے اور یہی راجح ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 112 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4717 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان۔`
عامر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وائدہ» (زندہ درگور کرنے والی) اور «مؤودہ» (زندہ درگور کی گئی دونوں) جہنم میں ہیں “ ۱؎۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4717]
عامر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وائدہ» (زندہ درگور کرنے والی) اور «مؤودہ» (زندہ درگور کی گئی دونوں) جہنم میں ہیں “ ۱؎۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4717]
فوائد ومسائل:
جس کو کم سنی میں ظلما دفن کر دیا گیا، وہ جہنم کی مستحق نہیں ہو سکتی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ نے وضاحت سے کہا ہے کہ وہ موودہ کے جہنمی ہونے کا نظریہ درست نہیں۔
انہوں نے فرمایاآیت (ما كنا معذبين حتي نبعث رسول) (بني إسرائيل:١٥) كے مطابق عاقل وبالغ کو اگر اسے دعوت نہ پہنچی ہو عذاب نہیں دیا جا سکتا تو غیر عاقل کو کیسے دیا جا سکتا ہے۔
پہلے وضاحت ہو چکی ہے کہ مشرکین کی اولاد کو بھی عذاب نہ ہو گا۔
حدیث١٤٧١٧ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے۔
اصل حدیث کا ایک حصہ ہے۔
اصل حدیث میں تفصٰل ہے کہ سلمہ بن بزید جعفی اور ان کے بھائی رسول ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کی کہ ہماری والدہ ملیکہ (جو جاہلیت میں مر گئیں) اچھی خاتون تھیں، صلہ رحمی اور مہمان نوازی کرنے والی تھیں، کیا ان باتوں کا ان کی والدہ کو فائدہ ہو گا؟ آپ ؐ نے فرمایا نہیں، انہوں نے پوچھا ہماری ماں نے ہماری ایک بہن کو زندہ دگن کردیا تھا، کیا اسے کوئی فائد ہ ہو گا؟ آپ ؐ نے فرمایا: (یہ) زندہ دفن کرنے والی اور زندہ دفن ہونے والی دونوں آگ میں ہیں۔
گویا آپ کا جواب ایک خاص موؤدہ کے بارے میں تھا۔
یہ عام حکم نہ تھا، غالبا یہ موؤدہ کفر کے عالم میں ہی بالغ ہو چکی تھی۔
جس کو کم سنی میں ظلما دفن کر دیا گیا، وہ جہنم کی مستحق نہیں ہو سکتی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ نے وضاحت سے کہا ہے کہ وہ موودہ کے جہنمی ہونے کا نظریہ درست نہیں۔
انہوں نے فرمایاآیت (ما كنا معذبين حتي نبعث رسول) (بني إسرائيل:١٥) كے مطابق عاقل وبالغ کو اگر اسے دعوت نہ پہنچی ہو عذاب نہیں دیا جا سکتا تو غیر عاقل کو کیسے دیا جا سکتا ہے۔
پہلے وضاحت ہو چکی ہے کہ مشرکین کی اولاد کو بھی عذاب نہ ہو گا۔
حدیث١٤٧١٧ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے۔
اصل حدیث کا ایک حصہ ہے۔
اصل حدیث میں تفصٰل ہے کہ سلمہ بن بزید جعفی اور ان کے بھائی رسول ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کی کہ ہماری والدہ ملیکہ (جو جاہلیت میں مر گئیں) اچھی خاتون تھیں، صلہ رحمی اور مہمان نوازی کرنے والی تھیں، کیا ان باتوں کا ان کی والدہ کو فائدہ ہو گا؟ آپ ؐ نے فرمایا نہیں، انہوں نے پوچھا ہماری ماں نے ہماری ایک بہن کو زندہ دگن کردیا تھا، کیا اسے کوئی فائد ہ ہو گا؟ آپ ؐ نے فرمایا: (یہ) زندہ دفن کرنے والی اور زندہ دفن ہونے والی دونوں آگ میں ہیں۔
گویا آپ کا جواب ایک خاص موؤدہ کے بارے میں تھا۔
یہ عام حکم نہ تھا، غالبا یہ موؤدہ کفر کے عالم میں ہی بالغ ہو چکی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4717 سے ماخوذ ہے۔