حدیث نمبر: 107
‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تشهدوهم» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں، پس اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ فوت ہو جائیں تو ان کے جنازے میں نہ جاؤ۔ ‘‘ اس حدیث کو امام احمد اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف والحديث صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (86/2 ح 5584، 2/ 125 ح 6077) و أبو داود (4691 واللفظ له) ¤٭ أبو حازم سلمة بن دينار لم يسمع من ابن عمر رضي الله عنه فالسند منقطع .¤تعديلات [107]:¤سنده ضعيف والحديث صحيح، رواه أحمد (86/2 ح 5584، 2/ 125 ح 6077) و أبو داود (4691 واللفظ له) ¤٭ أبو حازم سلمة بن دينار لم يسمع من ابن عمر رضي الله عنه فالسند منقطع وله شاهد صحيح عند الطبراني في الأوسط (114/5ح 4217)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4613 | سنن ابي داود: 4691 | معجم صغير للطبراني: 49

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´منکرین تقدیر کا عبرت ناک انجام`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تشهدوهم» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد . . .»
. . . اور انہی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدریہ (یعنی منکرین تقدیر) اس امت کے مجوسی ہیں اگر یہ بیمار ہوں تو ان کی بیمار پرسی نہ کرو اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں نہ شریک ہو۔ اس حدیث کو احمد، داؤد نے روایت کیا ہے۔ (یعنی یہ تو کافر ہیں یا فاسق ہیں ان سے ترک موالات کرنا ضروری ہے۔ مجوس آگ پوجنے والے کو کہتے ہیں یہ کافر ہیں۔) . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 107]
تخریج:
[سنن ابوداود 4691]

تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ (لیکن حدیث صحیح ہے۔)
اسے حاکم [85/1] اور دوسرے محدثین نے بھی بیان کیا ہے، لیکن اس کی سند منقطع ہے۔
ابوحازم سلمہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا۔ دیکھئے: تہذیب الکمال [431/7]
◈ (عبدالعزیز) ابن ابی حازم نے کہا: «من حدّثك أن أبى سمع من أحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم غير سهل بن سعد فقد كذب»
جو شخص تجھے بتائے کہ میرے والد نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے سنا ہے تو اس نے جھوٹ کہا۔ [تاريخ ابي زرعه الدمشقي: 1089 وسنده صحيح]
◈ المعجم الاوسط للطبرانی [114/5 ح 4217] میں اس کا ایک صحیح شاہد ہے۔
◈ حمید الطویل کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کے لئے دیکھئے: [اضواء المصابيح صفحه 318]
◈ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قدریوں کے بارے میں فرمایا: «أولٰئك مجوس هٰذه الأمة»
وہ اس امت کے مجوسی ہیں۔ [السنة لعبدالله بن أحمد: 958 وسنده حسن]
◈ امام بیہقی نے کتاب القدر [ح410] میں اس مفہوم کی روایت «سفيان (الثوري) عن عمر بن محمد عن نافع عن ابن عمر» کی سند سے بیان کر کے کہا: «هٰذا إسناد صحيح إلا أنه موقوف» !
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 107 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4613 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔`
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک شامی دوست تھا جو ان سے خط و کتابت رکھتا تھا، تو عبداللہ بن عمر نے اسے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے تقدیر کے سلسلے میں (سلف کے قول کے خلاف) کوئی بات کہی ہے، لہٰذا اب تم مجھ سے خط و کتابت نہ رکھنا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4613]
فوائد ومسائل:
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا یہ مقاطعہ (اعلان لاتعلقی) بغض فی اللہ کا اظہار تھا اور بلاشبہ اہل ایمان کی دوستی اور ناراضی اور اس کے دین کے ساتھ وابستہ رہنے کی بنیاد ہی پر ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4613 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4691 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدریہ (منکرین تقدیر) اس امت (محمدیہ) کے مجوس ہیں، اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک مت ہو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4691]
فوائد ومسائل:
1: مجوسی دوالہوں کے قائل ہیں، ایک خالق خیر سے وہ یزواں کہتے ہیں اور دوسرا خالق شر جسے وہ اہرمن کا نام دیتے ہیں، اسی طرح تقدیر کے منکر خیرکو اللہ کی اور شر کو غیر اللہ کی خلق سمجھتے ہیں، حالانکہ خلق اور ایجاد میں اللہ عزوجل کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے، نہ کوئی اس پر غالب ہے، اس نے اپنی حکمت کے تحت شر اور شیطان کو پیدا کیا ہے اور انسان اللہ عزوجل کی مشیت اور ارادے کے معنی ہمیشہ رضامندی الگ الگ دوچیزیں ہیں۔
جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ یقینامشیت الہی ہی سے ہوتا ہے، اس کے بغیر اچھا یا برا کوئی کام بھی نہیں ہوتا، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اللہ تعالی کا پسندیدہ بھی ہو۔
اللہ تعالی کو تو صرف وہی کام پسند ہیں جن کے کرنے کااس نے حکم دیا ہے۔
باقی کام ناپسندیدہ ہیں گو ہوتے وہ بھی اس کی مشیت ہی سے ہیں۔

2: اسلامی معاشرے میں شرعی اقدار کا تحفظ کرنے کےلئے ضروری ہے کہ ملحد اور بد عقیدہ کوگوں سے مقاطعہ کیا جائے تاکہ صاحب ایمان کی غیرت کا اظہار ہو اور انہیں مومنین سے جدا ہونے کا احساس رہے، مگر اہل علم پر لازم ہے کہ ان کے سامنے حق کا اظہار اور ان غلطیوں کی نشاندہی کریں۔

3: بعض حضرات نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4691 سے ماخوذ ہے۔