المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْمَعْرُوفِ وَإِعَانَةِ الْمَلْهُوفِ وَإِغَاثَتِهِ باب: نیکی کی ترغیب اور مصیبت زدہ کی مدد کا بیان۔
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ يَعْنِي ابْنَ الْحَجَّاجِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ أَعَانَ أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ ، وَأَلْطَفَهُ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ تَعَالَى أَنْ يُخْدِمَهُ مِنْ خَدَمِ الْجَنَّةِ .
979 \ 2 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَيْمُونٍ الْمُجَاشِعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ أَلْطَفَ مُؤْمِنًا ، أَوْ خَوَّلَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ حَوَائِجِهِ ، صَغُرَ ذَلِكَ أَوْ كَبُرَ ... فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
قُلْتُ : مَدَارُهُ عَلَى يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اپنے کسی بھائی کی حاجت روائی میں اس کی مدد کی اور اس کے ساتھ لطف و مروت کا برتاؤ کیا، تو اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر یہ حق ثابت ہو گیا کہ وہ جنت کے خادموں کو اس کی خدمت گزاری کے لیے مقرر فرما دے۔“ اسی طرح ایک اور سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کے ساتھ نرمی و مہربانی کا معاملہ کیا یا اس کی ضروریات میں سے کسی چھوٹی یا بڑی ضرورت میں اس کا ساتھ دیا (تو اسے بھی یہی صلہ ملے گا)۔“
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی اسناد کا مرکزی مدار یزید الرقاشی نامی راوی پر ہے اور وہ ضعیف ہے۔