المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَفَضْلِهَا باب: صدقہ و خیرات کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كُنْتُ أَظُنُّهُ رَفَعَهُ ، قَالَ : فِي ابْنِ آدَمَ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ سُلَامَى ، أَوْ عَظْمٍ ، أَوْ مَفْصِلٍ ، عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ . قَالَ : كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ يَتَكَلَّمُ بِهَا الرَّجُلُ صَدَقَةٌ ، وَعَوْنُ الرَّجُلِ أَخَاهُ عَلَى الشَّيْءِ صَدَقَةٌ ، شَرْبَةُ الْمَاءِ تَسْقِيهَا صَدَقَةٌ ، وَإِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ .
959 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - نَحْوَهُ .
959 \ 3 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ بِهِ ، لَكِنْ قَالَ : يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ مِيسَمٍ مِنَ الْإِنْسَانِ صَلَاةٌ ، وَإِنَّ كُلَّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ صَلَاةٌ ، وَإِنَّ حَمْلًا عَنِ الضَّعِيفِ صَلَاةٌ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (راویِ حدیث کا بیان ہے کہ میرا گمان ہے کہ انہوں نے اسے مرفوعاً بیان کیا) آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی آدم کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ یا ہڈیاں ہیں، اور ان میں سے ہر ایک پر ہر دن صدقہ واجب ہے“، پھر آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ: ”وہ نیک بات جو کوئی شخص (بھلائی کے لیے) کہے وہ صدقہ ہے، اپنے بھائی کی کسی کام میں مدد کرنا صدقہ ہے، کسی کو پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے، اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے“۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اسی سند کے ساتھ ایسی ہی روایت نقل کی ہے، جبکہ محمد بن بکار کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”انسان کے ہر عضو اور ہر جوڑ پر صبح کے وقت ایک نماز (صدقہ) لازم ہے، تمہارا ہر وہ قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی ایک نماز (صدقہ) ہے، اور کسی کمزور کا بوجھ اٹھانے یا لادنے میں اس کی مدد کرنا بھی ایک نماز (صدقہ) ہے“۔