المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَفَضْلِهَا باب: صدقہ و خیرات کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ . فَسَلَّمْتُ ، ثُمَّ جَلَسْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ ضَيْفٍ ضَافَنِي ، أَوْ عِيَالٍ إِنْ كَثُرُوا ؟ فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نِعْمَ الْمَالُ الْأَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ ، وَالْأَكْثَرُ سِتُّونَ ، وَوَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ ، إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا ، وَنَجْدَتِهَا ، وَأَفْقَرَ ظَهْرَهَا ، وَأَطْرَقَ فَحْلَهَا ، وَنَحَرَ سَمِينَهَا ، وَأَطْعَمَ الْقَانِعَ ، وَالْمُعْتَرَّ . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقَ وَأَحْسَنَهَا ، إِنَّهُ لَا يُحَلُّ بِالْوَادِي الَّذِي أَنَا فِيهِ مِنْ كَثْرَةِ إِبِلِي ؟ قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ فِي الْمَنِيحَةِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي لَأَمْنَحُ فِي كُلِّ عَامٍ مِائَةً ، قَالَ : كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْعَارِيَةِ ؟ قَالَ : يَغْدُو الْإِبِلُ ، وَيَغْدُو النَّاسُ ، فَمَنْ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ ذَهَبَ بِهِ ، قَالَ : كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْفِقَارِ ؟ قَالَ : إِنِّي لَأُفْقِرُ الْبِكْرَ الضَّرْعَ ، وَالنَّابَ الْمُدْبِرَ ، قَالَ : ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ، أَوْ مَالُ مَوْلَاكَ ؟ ، قُلْتُ : بَلْ مَالِي ، قَالَ : فَإِنَّمَا لَكَ فِي مَالِكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ ، وَمَا بَقِيَ فَلِمَوْلَاكَ ، قُلْتُ : لِمَوْلَايَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَمَا وَاللهِ لَئِنْ بَقِيتُ لَأَدَعَنَّ عِدَّتَهَا قَلِيلًا .
قَالَ الْحَسَنُ : فَفَعَلَ رَحِمَهُ اللهُ .سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، جب میں آپ ﷺ کے قریب پہنچا تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یہ صحرا نشینوں کے سردار ہیں۔“ میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا، پھر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون سا مال ہے جس میں مجھ پر کسی مہمان یا کثیر اہل و عیال کی وجہ سے کوئی گرفت اور وبال نہ ہو؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”چالیس اونٹ بہترین مال ہے، اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ، اور بربادی ہے سینکڑوں اونٹ والوں کے لیے، سوائے اس شخص کے جو ان کا حق ان کی بہتات میں بھی ادا کرے اور ان کی مشقت میں بھی، اور سواری کے لیے ان کی پیٹھ عاریتاً دے، اور جفتی کے لیے اپنا سانڈ مہیا کرے، اور اپنا فربہ جانور ذبح کرے، اور قناعت کرنے والے صابر محتاج اور سوال کرنے والے کو کھانا کھلائے جیسا کہ حکم ہے: ﴿وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ (سورة الحج: 36)۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کتنے ہی کریمانہ اور خوبصورت اخلاق ہیں، صورتحال یہ ہے کہ میرے اونٹوں کی کثرت کے سبب اس وادی میں جہاں میں مقیم ہوں کسی دوسرے کے اترنے کی جگہ نہیں بچتی، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم 'منیحہ' (دودھ پینے کے لیے جانور عارضی طور پر دینے) کے بارے میں کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کی: میں تو ہر سال سو اونٹ منیحہ کے طور پر دے دیتا ہوں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم 'عاریہ' (عام استعمال کے لیے مانگنے والوں) کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہو؟“ میں نے عرض کی: اونٹ صبح چرنے نکلتے ہیں اور لوگ بھی آ جاتے ہیں، جو کسی اونٹ کی نکیل پکڑ لیتا ہے وہ اسے لے جاتا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم 'فقار' (سواری و باربرداری کے لیے اونٹ دینے) کے متعلق کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کی: میں جوان اونٹ اور عمر رسیدہ اونٹنیاں بھی اس مقصد کے لیے دے دیتا ہوں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تمہیں یہ سب کرنا زیادہ محبوب ہے یا تمہارے وارث کا مال؟“ میں نے عرض کی: بلکہ مجھے تو اپنا مال پسند ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے مال میں سے تمہارا اپنا حصہ تو صرف وہی ہے جو تم نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ کر دیا، یا اللہ کی راہ میں دے کر اپنے حق میں نافذ کر دیا، اور جو باقی بچ گیا وہ تمہارے وارث کا ہے،“ میں نے عرض کی: کیا وہ وارث کا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں،“ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! اگر میں زندہ رہا تو میں اپنے اونٹوں کی تعداد کو صدقہ کر کے ضرور کم کر دوں گا۔
امام حسن بصری «رَحِمَهُ اللهُ» (اللہ ان پر رحم فرمائے) بیان کرتے ہیں کہ پھر قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے اپنے قول کے مطابق ویسا ہی کر دکھایا۔