المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنَ السُّؤَالِ وَفَضْلِ الْإِعْطَاءِ باب: مانگنے سے ڈرانے اور دینے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ الَّذِي يَأْتِينِي مِنْكُمْ فَيَسْأَلُنِي فَأُعْطِيهِ ، فَيَنْطَلِقُ وَمَا يَحْمِلُ فِي حِضْنِهِ إِلَّا النَّارَ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص میرے پاس آ کر مجھ سے سوال کرتا ہے اور میں اسے (مانگی ہوئی چیز) عطا کر دیتا ہوں، پھر وہ اسے لے کر روانہ ہوتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی گود میں محض آگ ہی سمیٹ کر لے جاتا ہے۔“