❮
❯
حدیث نمبر: 917
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَا كَانَ بَعْلًا ، أَوْ سَيْلًا ، أَوْ عَثَرِيًّا ، فَفِي كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ ، وَمَا كَانَ بِنَضْحٍ ، فَفِي كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو زمین بارش کے پانی، سیلابی ریلوں یا اپنی جڑوں کے ذریعے زمین کی قدرتی نمی سے سیراب ہوتی ہو، اس کی کل پیداوار میں سے دسواں حصہ (عشر) دینا واجب ہے، اور جس زمین کو اونٹوں یا مشقت کے دیگر ذرائع سے پانی نکال کر (مصنوعی طور پر) سیراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ (نصف عشر) لازم ہے۔“
ائمہ لغت اور شارحینِ حدیث کے نزدیک 'بَعل' اور 'عَثری' ایسی زراعت کو کہتے ہیں جو انسانی مشقت اور مالی خرچ کے بغیر صرف قدرتی وسائل سے سیراب ہو، اسی لیے اس پر عشر کی پوری شرح مقرر کی گئی ہے، جبکہ 'نضح' سے مراد وہ آبپاشی ہے جس میں وسائل اور محنت کے اخراجات شامل ہوں، اسی رعایت کی بنا پر وہاں زکوٰۃ کی شرح نصف کر دی گئی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 917
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :«إِسْنَادُ هَذَا الطَّرِيقِ ضَعِيفٌ؛ لِضَعْفِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْعُمَرِيِّ المَدَنِيِّ فِي حِفْظِهِ. »
«أخرجه سنن النسائي برقم: 4853، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 3070، 3084، 7367، 7368، 7369، 7370، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 6559، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 625، 9447، 9450، 9464، 9480، 9483، 9488، 9502، 9395، 9439، 9547، 9549، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 8126، 9281، 16081، وأخرجه الأموال لابن زنجويه برقم: 1389، 1502، 1459، 1501، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 996»