المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَحْرِيمِ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَمَوَالِيهِمْ باب: بنو ہاشم اور ان کے موالی پر صدقہ حرام ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : أَتَيْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ يَعْنِي بِنْتَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا ، وَفِي الْبَيْتِ سَرِيرٌ مَحْبُوكٌ بِلِيفٍ وَوِسَادَةٌ وَقِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ ، فَقَالَتْ : مَا تَنْظُرُ ؟ أَمَا إِنَّا مِنَ اللهِ بِخَيْرٍ ، لَوْ لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا صَدَقَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لَكَانَ لَنَا فِي ذَلِكَ غِنًى . قَالَ : قُلْتُ : دَرَاهِمُ أَوْصَى بِهَا سَلْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لِمَوْلَاةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا رُقَيَّةُ ؟ فَقَالَتْ : لَا أَعْرِفُهَا ، فَقُلْتُ لَهَا : خُذِيهَا . فَقَالَتْ : إِنِّي أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً ، وَلَا تَحِلُّ لَنَا صَدَقَةٌ ، وَلَكِنِ انْطَلِقْ فَتَصَدَّقْ بِهَا أَنْتَ . فَقُلْتُ لَهَا : بَلْ تَصَدَّقِي بِهَا أَنْتِ ، فَأَبَتْ ، ثُمَّ قَالَتْ : لَقَدْ جَاءَتِ الْبَارِحَةَ صُرَّةٌ مِنَ الْعِرَاقِ فَرَدَدْتُهَا ، وَأَبَيْتُ أَنْ أَقْبَلَهَا .عطاء بن السائب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا؛ میں نے دیکھا کہ گھر میں کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ایک چارپائی، ایک تکیہ اور لٹکا ہوا ایک مشکیزہ ہے، میں (اس زہد و سادگی کو) بغور دیکھنے لگا تو انہوں نے دریافت کیا: ”تم کیا دیکھ رہے ہو؟ ہم اللہ کے فضل سے خیر و عافیت میں ہیں، اگر ہمارے پاس نبی کریم ﷺ یا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا صدقہ (وقف کردہ مال) ہی ہوتا تو وہ بھی ہماری کفایت کے لیے کافی تھا“۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”یہ کچھ درہم ہیں جن کے متعلق سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک آزاد کردہ لونڈی رقیہ کے لیے وصیت کی تھی؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں اسے نہیں پہچانتی“۔ میں نے کہا: ”آپ اسے (تقسیم کے لیے) قبول فرما لیں“۔ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ صدقہ نہ ہو، اور ہمارے (اہلِ بیت کے) لیے صدقہ حلال نہیں ہے، لہٰذا تم خود جا کر اسے خیرات کر دو“۔ میں نے اصرار کیا کہ آپ ہی اسے تقسیم کر دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا: ”گزشتہ رات بھی عراق سے ایک توڑا (رقم کی تھیلی) آیا تھا مگر میں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور واپس بھیج دیا تھا“۔