المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ جَامِعٌ فِي حُدُودِ الزَّكَاةِ باب: زکوٰۃ کی حدود و نصاب کا جامع بیان۔
حدیث نمبر: 893
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا خِدَاشٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ مُصَدِّقِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - الَّذِي بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَنَّهُ أَخَذَ مِنْ كُلِّ عَشْرِ بَقَرَاتٍ شَاةً ، وَزَعَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَمَرَ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعٌ جَذَعٌ ، أَوْ قَالَ جَذَعَةٌ ، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ .ترجمہ
عکرمہ بن خالد ایک شخص سے اور وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس زکوٰۃ وصول کرنے والے عامل (کارندے) سے روایت کرتے ہیں جنہیں آپ نے یمن روانہ کیا تھا کہ انہوں نے ہر دس گایوں پر زکوٰۃ میں ایک بکری وصول کی، نیز راوی نے یہ بیان کیا کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ حکم جاری فرمایا تھا کہ ہر تیس گایوں پر ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی اور ہر چالیس گایوں پر ایک دو سالہ گائے (مسنہ) بطور زکوٰۃ لی جائے۔