المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِخْرَاجِ النَّوَائِحِ مِنَ الْبُيُوتِ وَالزَّجْرِ عَنِ النِّيَاحَةِ باب: نوحہ کرنے والی عورتوں کو گھروں سے نکالنے اور نوحہ کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 856
قَالَ : وَحَدَّثَنَا الرَّهَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كُنْتُ فِي جِنَازَةٍ ، فَإِذَا فِيهَا مِرْيَةٌ ، فَجَعَلَ يَرُدُّهَا ، فَجَعَلَتْ لَا تُبَالِي ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : يَا مُجَاهِدُ ، إِنَّا نُرِيدُ الْأَجْرَ ، وَهَذِهِ تُرِيدُ الْوِزْرَ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں ایک جنازے میں شریک تھا، تو اچانک وہاں ایک عورت نظر آئی، ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے (وہاں سے) ہٹانے اور واپس کرنے لگے مگر وہ اس بات کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کر رہی تھی، تب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (مجھ سے مخاطب ہو کر) فرمایا: ”اے مجاہد! ہم تو اجر و ثواب پانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ یہ عورت گناہ سمیٹنے کا ارادہ رکھتی ہے۔“
اس روایت کی سند میں لیث بن ابی سلیم راوی موجود ہیں جو ضعیف الحفظ ہونے کی بنا پر جمہور محدثین کے نزدیک کمزور قرار دیے گئے ہیں۔