المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ثَوَابِ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ باب: اولاد کی وفات پر صبر کرنے والے کے اجر کا بیان۔
حدیث نمبر: 787
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْأَنْصَارِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - : مَا الرَّقُوبُ فِيكُمْ ؟ قَالُوا : الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ ، قَالَ : لَيْسَ ذَاكُمْ بِالرَّقُوبِ ، الرَّقُوبُ الَّذِي يَقْدَمُ عَلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَمْ يُقَدِّمْ أَحَدًا مِنْ وَلَدِهِ .
هَذَا مُرْسَلٌ قَوِيٌّ .ترجمہ
مطرف بن عبداللہ بن الشخیر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا: ”تمہارے نزدیک «الرَّقُوبُ» کسے سمجھا جاتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”وہ شخص جس کی کوئی اولاد نہ ہو۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص (حقیقی معنوں میں) «الرَّقُوبُ» نہیں ہے، بلکہ اصل میں «الرَّقُوبُ» تو وہ ہے جو اپنے رب عزوجل کے حضور حاضر ہو جائے اور اس نے اپنی اولاد میں سے کسی کو (اپنی زندگی میں فوت ہونے پر صبر و ثواب کی نیت سے) پہلے نہ بھیجا ہو۔“
یہ روایت مرسلِ قوی ہے۔