المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ باب: عیدین (دونوں عیدوں) کی نماز کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قُلْتُ لِنَافِعٍ : كَيْفَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يُصَلِّي يَوْمَ الْعِيدِ . قَالَ : كَانَ يَشْهَدُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ الْإِمَامِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهِ فَيَغْتَسِلُ [غُسْلَهُ] مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَيَلْبَسُ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ ، وَيَتَطَيَّبُ بِأَحْسَنِ مَا عِنْدَهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمُصَلَّى ، فَيَجْلِسُ فِيهِ حَتَّى يَجِيءَ الْإِمَامُ ، فَإِذَا جَاءَ الْإِمَامُ صَلَّى مَعَهُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَدْخُلُ مَسْجِدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَأْتِي بَيْتَهُ .محمد بن اسحاق، نافع سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید کے دن (نماز و دیگر معمولات) کس طرح ادا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا: ”وہ امام کے ساتھ نمازِ فجر میں حاضر ہوتے، پھر اپنے گھر واپس لوٹتے اور غسلِ جنابت کی طرح (کامل) غسل فرماتے، اپنے سب سے عمدہ کپڑے زیبِ تن کرتے اور اپنے پاس موجود بہترین خوشبو استعمال کرتے، پھر گھر سے نکلتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچ جاتے اور وہاں امام کی آمد تک تشریف رکھتے، پھر جب امام تشریف لے آتا تو اس کے ساتھ نمازِ عید ادا کرتے، پھر واپسی پر رسول اللہ ﷺ کی مسجد (مسجدِ نبوی) میں داخل ہوتے اور اس میں دو رکعتیں ادا فرماتے، پھر اپنے گھر تشریف لے جاتے۔“
[مسند الحارث: 753]، اس اثر کی سند حسن ہے اور ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کا یہ عمل سنتِ صحابہ کے طور پر مستند ہے۔