المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اتِّخَاذِ الْمِنْبَرِ باب: منبر بنانے اور اسے (مسجد میں) نصب کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ : إِنَّ الْعُودَ الَّذِي فِي الْمَقْصُورَةِ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ عَلَيْهِ إِذَا قَامَ ، فَلَمَّا قُبِضَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُرِقَ ، فَطُلِبَ فَوُجِدَ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَكَانَتِ الْأَرَضَةُ قَدْ أَخْرَجَتْهُ ، فَنُحِتَتْ لَهُ خَشَبَتَانِ ، وَجُوِّفَتَا ، ثُمَّ أُطْبِقَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ شُعِبَتِ الْخَشَبَتَانِ عَلَيْهِ ، فَأَنْتَ إِذَا رَأَيْتَهُ رَأَيْتَ الشِّعْبَ فِيهِ .سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بیشک وہ لکڑی جو مقصورہ (مسجد نبوی کے مخصوص احاطے) میں موجود ہے، نبی کریم ﷺ جب (نماز یا خطبہ کے لیے) کھڑے ہوتے تو اس کا سہارا لیا کرتے تھے، پھر جب آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو وہ لکڑی چوری کر لی گئی، چنانچہ اسے تلاش کیا گیا تو وہ بنو عمرو بن عوف کی مسجد سے ملی، اس وقت دیمک اسے (اندر سے کھا کر) کھوکھلا کر چکی تھی، چنانچہ اس کی حفاظت کی خاطر لکڑی کے دو تختے تراشے گئے اور انہیں اندر سے مجوف (کھوکھلا) کیا گیا، پھر ان دونوں تختوں کو اس (مقدس لکڑی) پر چڑھا کر بند کر دیا گیا، پھر ان دونوں لکڑیوں کو اس پر پیوند کی طرح جوڑ دیا گیا، پس اب جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ کو اس میں وہ جوڑ صاف نظر آتا ہے۔“
اس روایت کی سند حسن ہے اور اسے امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں روایت کیا ہے۔