المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْغَدِيرِ يَقَعُ فِيهِ الْجِيفَةُ وَحُكْمِ الْمَاءِ الرَّاكِدِ باب: تالاب میں مردار گرنے اور ٹھہرے ہوئے پانی کے حکم کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ كَانَ يَقْضِي عَلَيْنَا فِي مَسْجِدِ الْأَشْيَاخِ قَبْلَ وَقْعَةِ ابْنِ الْأَشْعَثِ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي مَسِيرٍ ، فَانْتَهَوْا إِلَى غَدِيرٍ فِي نَاحِيَةٍ مِنْهُ جِيفَةٌ ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ حَتَّى جَاءَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذَا الْغَدِيرُ فِي نَاحِيَةٍ مِنْهُ جِيفَةٌ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْقُوا وَاسْتَقُوا ; فَإِنَّ الْمَاءَ يَحِلُّ وَلَا يَحْرُمُ " .
سَنَدٌ ضَعِيفٌ .ایک بزرگ (شیخ) جو ابن الاشعث کے واقعے سے پہلے مسجد الاشیاخ میں قاضی تھے، سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ایک سفر کے دوران ایک ایسے تالاب پر پہنچے جس کے ایک کنارے پر مردار پڑا ہوا تھا، تو وہ اس کے استعمال سے رک گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس تالاب کے ایک گوشے میں تو مردار پڑا ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «اسْقُوا وَاسْتَقُوا ; فَإِنَّ الْمَاءَ يَحِلُّ وَلَا يَحْرُمُ» ”تم خود بھی پانی پیو اور دوسروں (یعنی اپنے جانوروں) کو بھی پلاؤ؛ کیونکہ پانی تو حلال ہی ہوتا ہے اور وہ (محض اس وجہ سے) حرام نہیں ہوتا۔“