❮
❯
حدیث نمبر: 689
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ تَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ ، فَلَمْ يَلْهُ ، وَلَمْ يَجْهَلْ ، كَانَ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ، وَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ ، وَفِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ فَيَسْأَلَ اللهَ تَعَالَى فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ .
ترجمہ

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے پاکیزگی حاصل کی اور بہترین طریقے سے طہارت (وضو یا غسل) کی، پھر وہ جمعہ کی نماز کے لیے حاضر ہوا، وہاں پہنچ کر اس نے نہ تو کوئی لغو و فضول کام کیا اور نہ ہی جہالت و نادانی والی کوئی حرکت کی، تو یہ عمل اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیانی عرصہ کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا، اور اسی طرح پانچوں نمازیں بھی اپنے درمیانی اوقات کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں، اور جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ کوئی بھی مسلمان بندہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے کسی خیر و بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ ضرور عطا فرما دیتا ہے۔“
یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں موجود ہے، اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اور عطیہ عوفی دونوں ہی ضعیف راوی ہیں جس کی وجہ سے یہ سنداً ضعیف ہے، تاہم جمعہ کی فضیلت، پانچ نمازوں کے کفارہ ہونے اور جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی سے متعلق دیگر صحیح احادیث اس کے شواہد کے طور پر موجود ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 689
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 343، وأخرجه مسند أحمد برقم: 10954، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 8، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 7740، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3042، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1467»