المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ الْوِتْرِ باب: نمازِ وتر کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سَلَّامٌ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَبِيبٍ ، عَنْ أُخْتِهَا أُمِّ عَبْدِ اللهِ ، قَالَتْ : إِنَّهَا رَأَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : تُصَلِّي خَلْفَ الْمَقَامِ ، فَأَوْتَرَتْ بِرَكْعَةٍ قَرَأَتْ فِيهَا بِسُورَةِ إِبْرَاهِيمَ .
634 \ 2 - وَبِهِ : أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ : إِذَا سَمِعْتَ الصَّرْخَةَ ، فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ .سیدہ ام عبد اللہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز ادا کر رہی تھیں، پھر انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھی جس میں انہوں نے سورت ﴿إِبْرَاهِيمَ﴾ [سورة إبراهيم] کی تلاوت فرمائی؛ نیز اسی سند کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم (فجر کی) پکار سن لو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر ادا کر لیا کرو۔“
اس اثر کی تخریج امام مسدد نے اپنی مسند میں کی ہے، یہ روایت وتر کی ایک رکعت کے جواز اور اس کے وقت کی انتہا کی بابت علمی استدلال فراہم کرتی ہے کہ وتر کا وقت فجر کی اذان یا پکار تک رہتا ہے، اس کی سند میں ام شبیب اور ان کی بہن ام عبد اللہ موجود ہیں جو کہ مستورات میں سے ہیں۔