المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ رَوَاتِبِ الصَّلَاةِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا باب: سننِ رواتب اور ان کی پابندی کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، ثَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ صَلَّى أَرْبَعًا طُوَالًا ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى تُصَلَّى الظُّهْرُ ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ لِي إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَمَلٌ .سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا تو وہ چار طویل رکعتیں ادا کرتے تھے، چنانچہ میں نے ان سے اس بابت سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو میں نے آپ ﷺ سے اس متعلق دریافت کیا، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جب سورج ڈھل جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ظہر کی نماز کی ادائیگی تک وہ بند نہیں کیے جاتے، لہٰذا میں یہ پسند کرتا ہوں کہ (اس مبارک وقت میں) اللہ عزوجل کی بارگاہ میں میرا کوئی نیک عمل بلند کیا جائے۔“ “
اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم زوال کے بعد ان چار رکعتوں کی فضیلت اور آسمان کے دروازے کھلنے کا مضمون دیگر مستند احادیث و شواہد سے ثابت ہے۔