المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ رَوَاتِبِ الصَّلَاةِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا باب: سننِ رواتب اور ان کی پابندی کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، بِحَدِيثِ : مَنْ صَلَّى فِي الْيَوْمِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ..... الْحَدِيثَ ، قَالَ عَاصِمٌ : كَأَنَّ أَصْحَابَ عَبْدِ اللهِ تَحَرَّوْا بِهَا عِنْدَ الْفَرَائِضِ .
قُلْتُ : أَصْلُهُ فِي السُّنَنِ دُونَ قَوْلِ عَاصِمٍ هَذَا .سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے دن (اور رات) میں بارہ رکعتیں (نفل) ادا کیں...“ (پوری حدیث ذکر کی)؛ راویِ حدیث عاصم بن ابی النجود بیان کرتے ہیں کہ: ”ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تلامذہ اور رفقاء ان بارہ رکعتوں کو فرائض نمازوں کے ساتھ ادا کرنے کی بڑی جستجو کرتے اور ان کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے۔“
میں (مصنف) کہتا ہوں: اس حدیث کی اصل (یعنی بارہ رکعتوں والی روایت) تو کتبِ سنن میں موجود ہے، البتہ عاصم کا یہ قول (جس میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے اس عمل کی پیروی کا ذکر ہے) وہاں مذکور نہیں ہے۔