المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ باب: نماز میں کوئی معاملہ پیش آنے پر کیے جانے والے عمل کا بیان۔
حدیث نمبر: 562
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ - هُوَ ابْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ - ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ أَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ كَانَ فِي الصَّلَاةِ سَبَّحَ ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ أَذِنَ لِي .ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کیا کرتا تھا، پس اگر آپ ﷺ نماز کی حالت میں ہوتے تو «سَبَّحَ» ”سبحان اللہ کہہ کر تسبیح پڑھتے (تاکہ مجھے اپنی مصروفیت سے آگاہ کر دیں)“، اور اگر آپ ﷺ نماز میں نہ ہوتے تو مجھے اندر آنے کی اجازت عطا فرما دیتے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ موصلی نے روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عبید اللہ بن زحر اور ان کے استاد علی بن یزید الہانی کی موجودگی کی بنا پر یہ سند ضعیف ہے۔