المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالذِّكْرِ فِيهِمَا باب: رکوع، سجدے اور ان میں کیے جانے والے ذکر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ الْأَشْعَرِيُّ : أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللهِ الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ . قَالَ : لَوْ مَاتَ هَذَا عَلَى مَا هُوَ عَلَيْهِ لَمَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ; فَأَمَّا الرُّكُوعُ مَعَ السُّجُودِ ، فَإِنَّ مَثَلَ الَّذِي يُصَلِّي وَلَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ كَمَثَلِ الْجَائِعِ الَّذِي لَا يَأْكُلُ إِلَّا التَّمْرَةَ أَوِ التَّمْرَتَيْنِ لَا يُغْنِيَانِ عَنْهُ شَيْئًا .
قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَلَقِيتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ ، فَقُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا الْحَدِيثَ ؟ أَوَأَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : إِنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ : خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ : إِنَّهُمْ سَمِعُوهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا ابو عبداللہ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو (نماز میں) اپنا رکوع اور سجدہ مکمل نہیں کر رہا تھا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ شخص اسی حالت پر مر گیا تو وہ ملتِ محمد (ﷺ) کے علاوہ کسی اور طریقے پر مرے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے رکوع اور سجدے کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”بے شک اس شخص کی مثال جو نماز تو پڑھتا ہے مگر اپنا رکوع اور سجدہ پوری طرح ادا نہیں کرتا، اس بھوکے شخص کی طرح ہے جو صرف ایک یا دو کھجوریں کھاتا ہے جو اس کی بھوک ختم کرنے میں کچھ کام نہیں آتیں۔“
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور پوچھا: ”آپ کو یہ حدیث کس نے سنائی ہے؟ یا کیا آپ نے اسے خود سنا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے، اور لشکروں کے سالاروں سیدنا خالد بن ولید، سیدنا شرحبیل بن حسنہ اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم نے بھی اس کی تائید کی کہ انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے۔