المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الِاسْتِطَابَةِ باب: استنجاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 47
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَعَلَ يَقُولُ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ : كَيْفَ عَلَّمَكُمْ تَخْرُونَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، " أَمَرَنَا أَنْ نَتَّكِئَ عَلَى الْيَمِينِ وَنَنْصِبَ الْيُسْرَى " .
47 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ بِهَذَا لَكِنَّهُ عَكَسَهُ فِي الْيَمِينِ وَالْيُسْرَى .ترجمہ
بنو مدلج کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور بتانے لگے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فلاں فلاں احکام سکھائے ہیں“، تو (حاضرینِ مجلس میں سے) کسی نے (ازراہِ استعجاب) پوچھا: کیا انہوں نے آپ کو یہ بھی سکھایا ہے کہ آپ قضائے حاجت کیسے کریں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، ”آپ ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم (بیٹھتے وقت) دائیں جانب ٹیک لگائیں اور بائیں پاؤں کو کھڑا رکھیں“، اور امام احمد بن منیع نے بھی ابو احمد زبیری سے اسی طرح روایت کیا ہے، مگر انہوں نے دائیں اور بائیں کے الفاظ کی ترتیب کو اس کے برعکس ذکر کیا ہے۔