❮
❯
حدیث نمبر: 4593
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْأَغْنِيَاءَ وَالنِّسَاءَ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ثَلَاثَةً يُعَذَّبُونَ : امْرَأَةً مِنْ حِمْيَرِ طُوَالَةَ ، رَبَطَتْ هِرَّةً لَهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، فَهِيَ تَنْهَشُ قُبُلَهَا وَدُبُرَهَا ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ الَّذِي كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ ، فَإِذَا فُطِنَ لَهُ ، قَالَ : إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي ، وَالَّذِي سَرَقَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کے اکثر رہنے والے نادار اور مفلس لوگ ہیں، اور جب میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو پایا کہ وہاں کی اکثریت مالداروں اور عورتوں پر مشتمل ہے۔ نیز میں نے وہاں تین اشخاص کو عذاب میں مبتلا دیکھا: پہلی قبیلہ حِمْیَر کی ایک دراز قد عورت جس نے اپنی ایک بلی کو باندھ کر قید کر رکھا تھا، نہ تو اس نے اسے کچھ کھلایا، نہ پانی پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی جان بچا لیتی، چنانچہ (اب سزا کے طور پر) وہ بلی اس کے جسم کو آگے اور پیچھے سے نوچ رہی تھی۔ دوسرا بنی دَعْدَع کا وہ شخص جو اپنے ہک دار عصا (لاٹھی) کے ذریعے حاجیوں کا مال چرا لیا کرتا تھا، پھر اگر اس کی اس چوری کا پتہ چل جاتا تو وہ (صفائی پیش کرتے ہوئے) کہہ دیتا کہ ”یہ تو بس اتفاقاً میرے عصا کے ساتھ اٹک گیا تھا“۔ اور تیسرا وہ شخص جس نے اللہ کے رسول ﷺ کی (قربانی کے لیے نامزد) دو اونٹنیاں چوری کی تھیں۔“
یہ سند حسن ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4593
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ . »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1003، وأخرجه سنن النسائي برقم: 1479، 1480، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1194، وأخرجه مسند أحمد برقم: 6447، وأخرجه فتح الباري برقم: 1003، وأخرجه مسند البزار برقم: 2356، 2924، 3660، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1269، 1276، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 1375، 1389، 1393، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 2838، 7489»