المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الشفاعة وَفِيهِ أحاديث مِنْ البعث باب: شفاعت اور بعث سے متعلق احادیث کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَزِيدُ الْأَسَدِيُّ ، ثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ ثَقِيفَ ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَمْنَا بِالْبَابِ وَمَا فِي النَّاسِ أَبْغَضُ إِلَيْنَا مِنْ رَجُلٍ نَلِجُ عَلَيْهِ ، فَمَا خَرَجْنَا وَفِي النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ رَجُلٍ نَدْخُلُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنَّا : يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا سَأَلْتَ رَبَّكَ مُلْكًا كَمُلْكِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ؟ فَضَحِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : لَعَلَّ لِصَاحِبِكُمْ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ مِنْ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا أَعْطَاهُ دَعْوَةً ، فَمِنْهُمْ مَنِ اتَّخَذَ بِهَا دُنْيَا فَأُعْطِيَهَا ، وَمِنْهُمْ مَنْ دَعَا بِهَا عَلَى قَوْمِهِ إِذْ عَصَوْهُ فَأُهْلِكُوا بِهَا ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَانِي دَعْوَةً فَاخْتَبَأْتُهَا شَفَاعَةً عِنْدَ رَبِّي لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
4574 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ الشِّبَامِيُّ ، ثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، نَحْوَهُ .
4574 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ ، فَذَكَرَهُ .
4574 \ 4 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، فَذَكَرَهُ .
وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ لِابْنِ أَبِي عَقِيلٍ إِلَّا هَذَا .سیدنا عبد الرحمن بن ابی عقیل ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں قبیلہ ثقیف کے وفد کے ہمراہ روانہ ہوا، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ کے دروازے پر قیام کیا، (اس وقت ہماری کیفیت یہ تھی کہ) تمام لوگوں میں اس شخص (نبی کریم ﷺ) سے زیادہ ناپسندیدہ ہمارے نزدیک کوئی نہ تھا جن کی بارگاہ میں ہم داخل ہونے والے تھے، لیکن جب ہم وہاں سے رخصت ہوئے تو پوری دنیا کے انسانوں میں وہی ہستی ہمارے لیے سب سے زیادہ محبوب ہو چکی تھی جن کے پاس ہم حاضر ہوئے تھے۔ تب ہم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنے رب سے سیدنا سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) جیسی عظیم الشان سلطنت کا سوال نہیں کیا؟“ یہ سن کر نبی کریم ﷺ تبسم فرمانے لگے اور پھر ارشاد فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ تمہارے اس ساتھی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں سلیمان کی بادشاہت سے بھی کہیں زیادہ افضل مقام و مرتبہ ہو؛ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی نبی کو مبعوث فرمایا تو اسے ایک ایسی دعا (کی قبولیت کا خصوصی حق) عطا کی جو رائیگاں نہیں جاتی، چنانچہ ان انبیاء میں سے بعض نے تو اس کے ذریعے دنیا مانگ لی جو انہیں عطا کر دی گئی، اور بعض نے اپنی قوم کی نافرمانی پر ان کے خلاف بددعا کی تو وہ اس کے سبب ہلاک کر دیے گئے، جبکہ اللہ عزوجل نے مجھے بھی ایسی ہی ایک دعا عطا فرمائی ہے جسے میں نے روزِ قیامت اپنے رب کے حضور اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا کر (محفوظ) رکھا ہے۔“
امام حارث نے عبد العزیز بن ابان، عبد الجبار بن عباس شبامی اور عون بن ابی جحیفہ کے واسطے سے اس کے مانند روایت نقل کی ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے زہیر اور احمد بن عبد اللہ بن یونس کے طریق سے اسے ذکر کیا ہے۔
امام بزار نے عباس بن ابی طالب اور احمد بن عبد اللہ کے حوالے سے اسے بیان کیا ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق ابن ابی عقیل کی اس کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں ہے۔