❮
❯
حدیث نمبر: 457
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : ( بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، مِنْ هَمْزِهِ ، وَنَفْثِهِ ، وَنَفْخِهِ . قِيلَ : مَا هَمْزُهُ ؟ قَالَ : هَمْزُهُ : الْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ بَنِي آدَمَ ، وَنَفْثُهُ : الشِّعْرُ ، وَنَفْخُهُ : الْكِبْرُ ) .
ترجمہ

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ اطلاع ملی کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کا آغاز فرماتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْثِهِ، وَنَفْخِهِ» ”اے اللہ! میں شیطان مردود سے، اس کی دیوانگی، اس کے جادوئی اشعار اور اس کے تکبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ دریافت کیا گیا کہ شیطان کے «هَمْز» سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد وہ مرگی یا جنون کی کیفیت ہے جو اولادِ آدم کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، اس کے «نَفْث» سے مراد (مذموم) شاعری ہے، اور اس کے «نَفْخ» سے مراد تکبر و بڑائی ہے“۔
اس حدیث کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اگرچہ یہ روایت حسن بصری کی رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست روایت (مرسل) ہونے کی وجہ سے سندا منقطع ہے، مگر اس کے شواہد سنن ابی داؤد اور سنن ابن ماجہ میں موصولا موجود ہیں، جس کی بنا پر اس کے مفہوم کو تقویت حاصل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 457
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 770، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 3420، وأخرجه سنن النسائي برقم: 1625، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 767، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1357، وأخرجه مسند أحمد برقم: 24699، وأخرجه فتح الباري برقم: 997، 1016، 1155، 1306، 1310، 4347، 6007، 6082، 6710، وأخرجه مسند البزار برقم: 628، 639، 2395، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 19630، 19631، 19632، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1276، 1279، 1283، 2028، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 852، 1153، 1377، 1379، 1382، 1383، 1390، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1957، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3870، 9289، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16969، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 5208، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 1267، 1272، 2557، وأخرجه شرح السنة برقم: 952، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1253»