المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ فتنة الْقَبْرِ وعذاب الْقَبْرِ باب: قبر کے فتنے اور عذابِ قبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4533
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ الْمَعِيشَةَ الضَّنْكَ الَّتِي قَالَ اللهُ تَعَالَى هُوَ عَذَابُ الْقَبْرِ .ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ”بے شک وہ نہایت تنگ اور دشوار گزار زندگی جس کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا﴾ [سورة طه: 124] فرما کر کیا ہے، اس سے مراد قبر کا عذاب ہے۔“
اس روایت کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق (المدنی) کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے، تاہم اس مفہوم کی تائید میں دیگر صحابہ کرام سے بھی آثار مروی ہیں اور کثیر مفسرین نے عذابِ قبر کو ہی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے جس سے اس کے معنی کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔