❮
❯
حدیث نمبر: 4487
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ طَلْحَةُ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ حَدَّثَهُ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ أَبِي سَرِيحَةَ .
وَأَمَّا جَرِيرٌ : فَقَالَ : عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَحَدِيثُ طَلْحَةَ أَتَمُّهَا وَأَحْسَنُهَا ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّابَّةَ ، فَقَالَ : لَهَا ثَلَاثُ خَرَجَاتٍ مِنَ الدَّهْرِ : فَتَخْرُجُ فِي أَقْصَى الْبَادِيَةِ لَا يَدْخُلُ ذِكْرُهَا الْقَرْيَةَ - يَعْنِي مَكَّةَ - ثُمَّ تَكْمُنُ زَمَانًا طَوِيلًا ، ثُمَّ تَخْرُجُ خَرْجَةً أُخْرَى دُونَ ذَلِكَ ، فَيَعْلُو ذِكْرُهَا فِي الْبَادِيَةِ وَيَدْخُلُ ذِكْرُهَا الْقَرْيَةَ - يَعْنِي : مَكَّةَ - قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثُمَّ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي أَعْظَمِ الْمَسَاجِدِ عَلَى اللهِ حُرْمَةً - أَجْرُهَا - ، خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ، لَمْ يَرُعْهُمْ إِلَّا وَهِيَ تَرْغُو بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، تَنْفُضُ عَنْ رَأْسِهَا التُّرَابَ ، فَانْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا شَتَّى وَمَعًا ، وَثَبَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَعَرَفُوا أَنَّهُمْ لَنْ يُعْجِزُوا اللهَ تَعَالَى . فَبَدَأَتْ بِهِمْ ، فَجَلَّتْ وُجُوهَهُمْ حَتَّى جَعَلَتْهَا كَأَنَّهَا الْكَوْكَبُ الدُّرِّيُّ ، وَوَلَّتْ فِي الْأَرْضِ لَا يُدْرِكُهَا طَالِبٌ ، وَلَا يَنْجُو مِنْهَا هَارِبٌ ، حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ لَيَتَعَوَّذُ مِنْهَا بِالصَّلَاةِ ، فَتَأْتِيهُ مِنْ خَلْفِهِ ، فَتَقُولُ : الْآنَ يَا فُلَانُ تُصَلِّي ، فَيُقْبِلُ عَلَيْهَا ، فَتَسِمُهُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ تَنْطَلِقُ ، وَيَشْتَرِكُ النَّاسُ فِي الْأَمْوَالِ ، وَيَصْطَحِبُونَ فِي الْأَمْصَارِ ، يُعْرَفُ الْمُؤْمِنُ مِنَ الْكَافِرِ ، حَتَّى أَنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَقُولُ : يَا كَافِرُ ، اقْضِنِي حَقِّي ، وَحَتَّى إِنَّ الْكَافِرَ يَقُولُ : يَا مُؤْمِنُ ، اقْضِنِي حَقِّي .
4487 \ 2 - أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقِ الْعَبْقَرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ ، وَحْدَهُ بِطُولِهِ .
وَطَلْحَةُ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا حذیفہ بن اسید الغفاری ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین سے نکلنے والے عجیب الخلقت جانور (دابۃ الارض) کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”زمانہِ دراز میں اس کے نمودار ہونے کے تین مراحل ہوں گے: وہ پہلی مرتبہ بعید ترین ریگستان سے ظاہر ہوگا جس کی خبر شہر (یعنی مکہ) تک نہیں پہنچے گی، پھر وہ ایک طویل عرصے تک روپوش رہے گا، پھر دوسری مرتبہ اس سے کچھ کم فاصلے سے ظاہر ہوگا تو صحرائی علاقوں میں اس کا خوب شہرہ ہوگا اور مکہ شہر میں بھی اس کا تذکرہ پہنچ جائے گا۔“ رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: ”پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب لوگ اللہ کے نزدیک حرمت، اجر و ثواب اور بزرگی کے لحاظ سے سب سے عظیم مسجد یعنی مسجدِ حرام میں موجود ہوں گے، تو اچانک وہ جانور رکنِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان بلکتی ہوئی آواز نکالتا ہوا نمودار ہو کر انہیں ہکا بکا کر دے گا، وہ اپنے سر سے مٹی جھاڑ رہا ہوگا، پس لوگ اسے دیکھ کر مختلف ٹولیوں کی صورت میں اور اکٹھے ہر طرف منتشر ہو جائیں گے، البتہ مومنین کی ایک جماعت اپنی جگہ جمی رہے گی کیونکہ وہ یہ جان چکے ہوں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے بھاگ کر اسے عاجز نہیں کر سکتے۔ پس وہ جانور انہی سے اپنی کارروائی کا آغاز کرے گا اور ان کے چہروں کو اس قدر مصفا اور روشن کر دے گا کہ وہ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو جائیں گے، پھر وہ زمین میں اپنی مہم پر نکل کھڑا ہوگا، نہ اسے تلاش کرنے والا پکڑ سکے گا اور نہ ہی اس سے بھاگنے والا بچ کر نکل سکے گا، یہاں تک کہ صورتحال یہ ہوگی کہ ایک شخص اس کے ڈر سے نماز میں پناہ لینے کی کوشش کرے گا تو وہ جانور اس کے پیچھے سے آ کر کہے گا: اے فلاں! کیا اب تو نماز پڑھنے لگا ہے؟ پھر جب وہ شخص اس کی طرف مڑے گا تو وہ اس کے چہرے پر نشان لگا دے گا اور آگے بڑھ جائے گا، (اس زمانے میں) لوگ مالی معاملات میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے اور شہروں میں باہم زندگی بسر کریں گے، مگر مومن اور کافر کے درمیان امتیاز بالکل واضح ہو چکا ہوگا، یہاں تک کہ لین دین کے وقت مومن پکار کر کہے گا: اے کافر! میرا حق ادا کر، اور کافر کہے گا: اے مومن! میرا حق ادا کر۔“
اسے امام حاکم نے العبقری کے طریق سے صرف طلحہ سے مفصل روایت کیا ہے، اور طلحہ نامی راوی ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4487
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: طَلْحَةُ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 8537، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 3035، 34، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 12575، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7599»