المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ قتل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَالْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ فَضَالَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى يَنْبُوعَ عَائِدًا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَكَانَ مَرِيضًا بِهَا ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : مَا يُقِيمُكَ بِهَذَا الْمَنْزِلِ ؟ لَوْ هَلَكْتَ بِهِ لَمْ يَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ ، احْتَمِلْ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ ، وَصَلَّوْا عَلَيْكَ - وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي لَسْتُ بِمَيِّتٍ مِنْ وَجَعِي هَذَا ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ لَا أَمُوتَ حَتَّى أُؤَمَّرَ ، ثُمَّ تُخْضَبَ هَذِهِ - يَعْنِي : لِحْيَتَهُ - مِنْ دَمِ هَذِهِ - يَعْنِي : هَامَتَهُ - فَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِصِفِّينَ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَلَا نَعْلَمُ فَضَالَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَوَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا هَذَا .سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے مقامِ ینبوع کی طرف نکلا جہاں وہ علیل تھے، میرے والد نے ان سے عرض کیا: ”آپ کو اس جگہ کس چیز نے مقیم کر رکھا ہے؟ اگر آپ کا یہاں انتقال ہو گیا تو قبیلہ جہینہ کے دیہاتیوں کے علاوہ آپ کے پاس کوئی نہیں ہوگا، آپ مدینہ منورہ تشریف لے چلیں، کیونکہ اگر وہاں آپ کی وفات ہوئی تو آپ کے جلیل القدر ساتھی آپ کی تجہیز و تکفین کے معاملات سنبھالیں گے اور وہی آپ کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔“ واضح رہے کہ ابوفضالہ رضی اللہ عنہ اصحابِ بدر میں سے تھے، تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”میں اپنی اس بیماری سے وفات نہیں پاؤں گا، بے شک رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد فرمایا تھا کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ میں خلیفہ نہ بن جاؤں، پھر یہ—یعنی اپنی داڑھی کی طرف اشارہ کیا—اس کے خون سے—یعنی اپنے سر کی چوٹی کے خون سے—رنگین نہ ہو جائے۔“ بعد ازاں ابوفضالہ رضی اللہ عنہ جنگِ صفین میں شہید ہو گئے۔
اسے امام بزار نے محمد بن عبد الرحیم کے واسطے سے حسن رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق فضالہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث روایت نہیں کی۔