المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ شُرُوطِ الْأَئِمَّةِ باب: ائمہ کی شرائط کا بیان۔
[وَقَالَ] أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يَقُولُ : إِنَّ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدَّمَهُ قَوْمُهُ لِيُصَلِّيَ بِهِمْ فَأَبَى حَتَّى دَفَعُوهُ ، فَلَمَّا صَلَّى بِهِمْ قَالَ : ( أَكُلُّكُمْ رَاضٍ ؟ ) قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : الْحَمْدُ لِلهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ : الْمَرْأَةُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا ، وَالْعَبْدُ الْآبِقُ ، وَالرَّجُلُ يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ " .سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھایا تو انہوں نے انکار کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے (شدتِ اصرار سے) انہیں آگے دھکیل دیا، پس جب انہوں نے انہیں نماز پڑھا دی تو دریافت فرمایا: ”کیا تم سب (میری امامت پر) راضی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تین افراد ایسے ہیں جن کی نماز (قبولیت کے لیے) بلند نہیں کی جاتی: وہ عورت جو اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نکلے، وہ غلام جو (اپنے مالک سے) بھاگ نکلا ہو، اور وہ شخص جو کسی قوم کی امامت کرے درآنحالیکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔“
اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں نقل کیا ہے، اور اس کے ہم معنی احادیث دیگر کتبِ سنن میں بھی موجود ہیں، جن میں ایسے امام کی نماز کی عدمِ قبولیت کی وعید ہے جسے مقتدی کسی شرعی عیب یا خرابی کی بنا پر ناپسند کرتے ہوں۔