المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ العزلة فِي الفتن باب: فتنوں کے زمانے میں گوشہ نشینی کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَسْمُولِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا قَالَ : سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، خَيْرُ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ رِسْلِهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ أَلْبَانِهَا ، وَيَلْبَسُ مِنْ صُوفِهَا ، أَوْ قَالَ " أَشْعَارِهَا " ، وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ ، وَاللهِ مَا يَعْبَؤُونَ ، يَقُولُهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا .مخول بہزی کے والد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیث بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”لوگوں پر عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں (مسلمان کا) بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جو دو مسجدوں (مکہ و مدینہ) کے درمیان ہوں گی، وہ درختوں کے پتے چریں گی اور پانی کے گھاٹ پر آئیں گی، ان کا مالک ان کے تازہ دودھ سے غذا حاصل کرے گا، ان کا دودھ پیئے گا اور ان کی اون“ یا فرمایا ”ان کے بالوں سے لباس تیار کرے گا، جبکہ فتنے عربوں کی جڑوں اور ان کے مراکز کے درمیان بری طرح سر اٹھائے ہوئے ہوں گے، اللہ کی قسم! وہ ان کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔“ رسول اللہ ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشاد فرمائے۔
مسند ابویعلیٰ: 4350، اس کی سند میں محمد بن سلیمان المسمولی ضعیف ہے اور قاسم بن مخول کی توثیق معلوم نہیں۔