المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ شُرُوطِ الْأَئِمَّةِ باب: ائمہ کی شرائط کا بیان۔
قَالَ عَبْدُ [ بْنُ حُمَيْدٍ] : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَكَّةَ فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ ... الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ ( كُنَّا نُنَادِي فِي بُيُوتِنَا لِلصَّلَاةِ ، وَنُجَمِّعُ لِأَهْلِنَا ) .ابراہیم بن عبید بن رفاعہ سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ بیٹھ کر اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا رہے تھے... (راوی نے مکمل) حدیث بیان کی جس میں یہ (ذکر) بھی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم اپنے گھروں میں نماز کے لیے (اذان کے ذریعے) پکارا کرتے تھے اور اپنے گھر والوں کو (باجماعت نماز کے لیے) جمع کیا کرتے تھے۔“
اس روایت کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی خالد بن الیاس محدثین کے نزدیک ضعیف اور متروک الحدیث ہے۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا [عَنْبَسَةُ] بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلَّاقٍ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِمَامُ الْقَوْمِ وَافِدُهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدِّمُوا أَفْضَلَكُمْ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی قوم کا امام اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ان کا وفد اور نمائندہ ہوتا ہے، لہٰذا تم اپنے میں سے سب سے افضل اور بہتر شخص کو (امامت کے لیے) آگے کیا کرو۔“
اس روایت کی سند میں داؤد بن المحبر اور عنبسہ بن عبد الرحمن جیسے متروک و ضعیف راویوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ حدیث سنداً انتہائی ضعیف ہے۔