المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ دَفْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی تدفین کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ بِلَالٍ يُحَدِّثُ قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمُوتُ إِلَّا يُدْفَنُ حِينَ يُقْبَضُ ، فَخُطُّوا حَوْلَ فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ادْفِنُوهُ حَيْثُ قُبِضَ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ ضَعِيفٍ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا بِسَنَدٍ مُعْضَلٍ ، وَهَذِهِ الطَّرِيقُ الْمُرْسَلَةُ أَصَحُّ مَخْرَجًا ، وَهِيَ تُعَضِّدُ ذَلِكَ الْمُتَّصِلَ وَتُشْعِرُ أَنَّ لَهُ أَصْلًا .قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگوں (صحابہ کرام) کے درمیان نبی کریم ﷺ کی تدفین کے مقام کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (اس اختلاف کو ختم کرتے ہوئے) فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمُوتُ إِلَّا يُدْفَنُ حِينَ يُقْبَضُ» ”کوئی بھی نبی ایسا نہیں جس کا وصال ہو مگر اسے وہیں دفن کیا جاتا ہے جہاں اس کی روح قبض کی جائے“۔ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہدایت دی کہ) اب تم نبی کریم ﷺ کے بسترِ مبارک کے گرد نشان لگاؤ اور پھر انہیں اسی جگہ سپردِ خاک کر دو جہاں ان کی روح قبض ہوئی ہے“۔
اس حدیث کو امام احمد نے ایک طویل روایت کے ضمن میں متصل لیکن ضعیف سند کے ساتھ نقل کیا ہے، نیز انہوں نے اسے ایک معضل سند سے بھی روایت کیا ہے، تاہم یہ مرسل طریقِ روایت تخریج کے لحاظ سے زیادہ مستند ہے اور یہی اس متصل روایت کو تقویت پہنچاتا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس روایت کی بنیاد موجود ہے۔