المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ وفاة سيدنا رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی وفات کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ وَعِنْدَهُ عِصَابَةٌ حَمْرَاءُ ، أَوْ قَالَ : صَفْرَاءُ ، فَقَالَ : ابْنَ عَمٍّ ، خُذْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ ، فَاشْدُدْ بِهَا رَأْسِي ، فَشَدَدْتُ بِهَا رَأْسَهُ ، قَالَ : ثُمَّ تَوَكَّأَ عَلَيَّ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَرُبَ مِنِّي الرَّحِيلُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ ، فَمَنْ كُنْتُ قَدْ أَصَبْتُ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ مِنْ بَشَرِهِ أَوْ مِنْ شَعَرِهِ أَوْ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فَهَذَا عِرْضُ مُحَمَّدٍ وَشَعْرُهُ وَبَشَرُهُ وَمَالُهُ ، فَلْيَقُمْ فَلْيَقْتَصَّ ، وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ : إِنِّي أَتَخَوَّفُ مِنْ مُحَمَّدٍ الْعَدَاوَةَ وَالشَّحْنَاءَ ، أَلَا إِنَّهُمَا لَيْسَا مِنْ طَبِيعَتِي وَلَيْسَا مِنْ خُلُقِي ، قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ .
فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : ابْنَ عَمِّي ، لَا أَحْسَبُ أَنَّ مَقَامِي بِالْأَمْسِ أَجْزَأَ عَنِّي ، خُذْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ فَاشْدُدْ بِهَا رَأْسِي ، قَالَ : فَشَدَدْتُ بِهَا رَأْسَهُ ، قَالَ : ثُمَّ تَوَكَّأَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ بِالْأَمْسِ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيْنَا مَنِ اقْتَصَّ ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ يَوْمَ أَتَاكَ السَّائِلُ فَسَأَلَكَ ، فَقُلْتَ : مَنْ مَعَهُ شَيْءٌ يُقْرِضُنَا ؟ فَأَقْرَضْتُكَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا فَضْلُ ، أَعْطِهِ ، فَأَعْطَيْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ غَلَبَ عَلَيْهِ فَلْيَسْأَلْنَا نَدْعُ لَهُ ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي رَجُلٌ جَبَانٌ كَثِيرُ النَّوْمِ ، قَالَ الْفَضْلُ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَشْجَعَنَا وَأَقَلَّنَا نَوْمًا .
قَالَ : ثُمَّ أَتَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ عَائِشَةَ ، فَقَالَ لِلنِّسَاءِ مِثْلَمَا قَالَ لِلرِّجَالِ .سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی علالت کے دوران آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کے سر مبارک پر سرخ رنگ کی پٹی بندھی ہوئی تھی، یا (راوی کو شک ہے کہ) شاید زرد رنگ کی پٹی تھی، پس آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میرے چچا زاد بھائی! اس پٹی کو تھامو اور اس کے ذریعے میرے سر کو مضبوطی سے باندھ دو۔“ میں نے اس کے ساتھ آپ ﷺ کے سر مبارک کو باندھ دیا، پھر آپ ﷺ نے مجھ پر سہارا لیا یہاں تک کہ ہم مسجد میں داخل ہوئے، پس آپ ﷺ نے (لوگوں کو مخاطب کر کے) ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں، اور عین ممکن ہے کہ میرا تمہارے درمیان سے رخصت ہونے کا وقت قریب آ پہنچا ہو، پس اگر میں نے کسی کی عزت کو کوئی ٹھیس پہنچائی ہو، یا کسی کے بدن، بالوں یا مال کو کوئی نقصان پہنچایا ہو، تو یہ محمد (ﷺ) کی عزت، بال، بدن اور مال حاضر ہے، وہ شخص کھڑا ہو جائے اور (مجھ سے) اپنا بدلہ لے لے، اور تم میں سے کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ مجھے محمد (ﷺ) کی طرف سے دشمنی اور کینہ پروری کا ڈر ہے، خبردار! یہ دونوں باتیں نہ تو میری جبلت میں شامل ہیں اور نہ ہی میرے اخلاق کا حصہ ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے۔
جب اگلا دن ہوا تو میں پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میرے چچا زاد بھائی! میرا نہیں خیال کہ میرا گزشتہ روز کا کھڑا ہونا (اور اعلان کرنا) میرے لیے کافی ہوا ہوگا، اس پٹی کو پکڑو اور اس سے میرا سر مضبوطی سے باندھ دو۔“ فضل کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کا سر مبارک اس سے باندھ دیا، پھر نبی کریم ﷺ نے مجھ پر ٹیک لگائی یہاں تک کہ مسجد میں تشریف لائے اور وہی گفتگو فرمائی جو گزشتہ روز فرمائی تھی، پھر نبی کریم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہمیں سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو (اپنا حق ہو تو) بدلہ لے لے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو یاد ہے جس دن ایک مانگنے والا آپ کے پاس آیا تھا اور اس نے آپ سے سوال کیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”کس کے پاس کچھ ہے جو ہمیں قرض دے سکے؟“ تو میں نے آپ کو تین درہم قرض دیے تھے۔ پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے فضل! اسے (وہ درہم) دے دو۔“ تو میں نے وہ اسے دے دیے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص پر کوئی (اخلاقی یا جسمانی کمزوری) غالب ہو تو وہ ہم سے کہے تاکہ ہم اس کے لیے دعا کریں۔“ پس ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض گزار ہوا: اے اللہ کے رسول! میں بزدل شخص ہوں اور بہت زیادہ سونے کا عادی ہوں، سیدنا فضل کہتے ہیں کہ (آپ ﷺ کی دعا کی برکت سے) پھر میں نے دیکھا کہ وہ شخص ہم سب سے زیادہ بہادر اور سب سے کم سونے والا بن گیا تھا۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں خواتین سے بھی ویسی ہی بات کہی جیسی مردوں سے کہی تھی۔