المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة بدر باب: غزوۂ بدر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَيْ خَالِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ قِصَّتِكَ يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اقْرَأْ بَعْدَ الْعِشْرِينَ وَالْمِائَةِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ تَجِدْ قِصَّتَنَا : وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ إِلَى قَوْلِهِ : أَنْ تَفْشَلا قَالَ : هُمُ الَّذِينَ طَلَبُوا الْأَمَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى قَوْلِهِ : وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ قَالَ : هُوَ تَمَنِّي الْمُؤْمِنِينَ لِقَاءَ الْعَدُوِّ إِلَى قَوْلِهِ : إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ .سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ”اے ماموں جان! مجھے غزوہ بدر کے دن پیش آنے والے آپ کے قصے اور احوال کے بارے میں بتائیے؟“ تو انہوں نے جواباً فرمایا: ”تم سورہ آل عمران کی آیت نمبر ایک سو بیس کے بعد سے تلاوت کرو، تمہیں وہاں ہمارا پورا قصہ مل جائے گا: ﴿وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ﴾ [سورة آل عمران: 121] سے لے کر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿أَنْ تَفْشَلَا﴾ [سورة آل عمران: 122] تک۔“ انہوں نے (تفسیر بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ”یہ ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے (جنگ کے دوران) مشرکین سے امان طلب کی تھی، (اسی طرح تلاوت جاری رکھو) یہاں تک کہ اللہ کے اس فرمان ﴿وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ﴾ [سورة آل عمران: 143] تک پہنچ جاؤ۔“ انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد مسلمانوں کی دشمن سے مڈبھیڑ اور قتال کی وہ آرزو تھی (جو معرکے سے قبل ان کے دلوں میں موجزن تھی)۔ (پھر پڑھتے جاؤ) یہاں تک کہ تم اس فرمان ﴿إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ﴾ [سورة آل عمران: 152] تک پہنچ جاؤ (تو تمہیں ہماری ثابت قدمی اور اللہ کی نصرت کا حال معلوم ہو جائے گا)۔“
اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اگرچہ اس کے متن میں ”یومِ بدر“ کا لفظ مذکور ہے لیکن سیاق و سباق اور قرآنی آیات صراحت کے ساتھ غزوہ احد کے واقعات کی ترجمانی کر رہی ہیں۔