المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ الهجرة إِلَى الحبشة باب: حبشہ کی طرف ہجرت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ائْذَنْ لِي أَنْ آتِيَ أَرْضًا أَعْبُدُ اللهَ تَعَالَى فِيهَا لَا أَخَافُ أَحَدًا ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَأَتَى النَّجَاشِيَّ .
قَالَ : فَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ مَكَانَهُ حَسَدْتُهُ ، قُلْتُ : وَاللهِ لَأَسْتَقْتِلَنَّ لِهَذَا وَأَصْحَابِهِ ، فَأَتَيْتُ النَّجَاشِيَّ فَدَخَلْتُ مَعَهُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ بِأَرْضِكَ رَجُلًا ابْنُ عَمِّهِ بِأَرْضِنَا ، وَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلنَّاسِ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ ، وَإِنَّكَ وَاللهِ إِنْ لَمْ تَقْتُلْهُ وَأَصْحَابَهُ لَا أَقْطَعُ إِلَيْكَ هَذِهِ النُّطْفَةَ أَبَدًا ، لَا أَنَا وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي ، قَالَ : ادْعُهُ ، قُلْتُ : إِنَّهُ لَا يَجِيءُ مَعِي فَأَرْسِلْ مَعِي رَسُولًا ، فَجَاءَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ نَادَيْتُ : ائْذَنْ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَنَادَى هُوَ مِنْ خَلْفِي : ائْذَنْ لِعَبْدِ اللهِ ، قَالَ : فَسَمِعَ صَوْتَهُ فَأَذِنَ لَهُ قَبْلِي ، قَالَ : فَدَخَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ، قَالَ : فَأَذِنَ لِي ، فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ ، فَذَكَرَ أَيْنَ كَانَ مَقْعَدُهُ مِنَ السَّرِيرِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ جِئْتُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَجَعَلْتُهُ خَلْفَ ظَهْرِي ، وَأَقْعَدْتُ بَيْنَ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي ، قَالَ : فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : نَحِّرُوا نَحِّرُوا ، أَيْ : تَكَلَّمُوا ، فَقَالَ عَمْرٌو : إِنَّ ابْنَ عَمِّ هَذَا بِأَرْضِنَا ، وَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلنَّاسِ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ ، وَإِنَّكَ وَاللهِ إِنْ لَمْ تَقْتُلْهُ وَأَصْحَابَهُ لَا أَقْطَعُ هَذِهِ النُّطْفَةَ إِلَيْكَ أَبَدًا ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي ، قَالَ : فَتَشَهَّدَ ، فَأَنَا أَوَّلُ مَا سَمِعْتُ التَّشَهُّدَ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ ابْنُ عَمِّي ، وَأَنَا عَلَى دِينِهِ ، قَالَ : فَصَاحَ ، وَقَالَ : أَوَّهْ ، حَتَّى قُلْتُ : إِنَّ الْحَبَشَةَ لَا تَتَكَلَّمُ ، قَالَ : أَنَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى ؟ مَا يَقُولُ فِي عِيسَى ؟ قَالَ : يَقُولُ : هُوَ رُوحُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ ، قَالَ : فَتَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ : مَا أَخْطَأَ شَيْئًا مِمَّا قَالَ وَلَا هَذِهِ ، وَلَوْلَا مُلْكِي لَتَبِعْتُكُمْ ، وَقَالَ لِي : مَا كُنْتُ لِأُبَالِيَ أَنْ لَا تَأْتِيَنِي أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ أَبَدًا ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اذْهَبْ فَأَنْتَ آمِنٌ بِأَرْضِي ، فَمَنْ ضَرَبَكَ قَتَلْتُهُ ، وَمَنْ سَبَّكَ غَرَّمْتُهُ وَقَالَ لِآذِنِهِ : مَتَى أَتَاكَ هَذَا يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَأْذَنْ لَهُ ، إِلَّا أَنْ أَكُونَ عِنْدَ أَهْلِي ، فَإِنْ كُنْتُ عِنْدَ أَهْلِي فَأَخْبِرْهُ ، فَإِنْ أَبَى فَأْذَنْ لَهُ ، قَالَ : وَتَفَرَّقْنَا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَكُونُ لَقِيتُهُ خَالِيًا مِنْ جَعْفَرٍ ، فَاسْتَقْبَلَنِي فِي طَرِيقٍ مَرَّةً ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا وَنَظَرْتُ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، قَالَ : فَدَنَوْتُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : تَعْلَمُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : هَدَاكَ اللهُ تَعَالَى ، فَاثْبُتْ ، قَالَ : وَتَرَكَنِي وَذَهَبَ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مُخَالِفٌ لِلْمَشْهُورِ أَنَّ إِسْلَامَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ عَلَى يَدِ النَّجَاشِيِّ نَفْسِهِ .
تَفَرَّدَ بِهِ عُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ ، وَقَدْ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : لَا يُسَاوِي شَيْئًا ، وَوَثَّقَهُ مَرَّةً ، وَفِي الْجُمْلَةِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ .
وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .عمیر بن اسحاق سے مروی ہے کہ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے (ہجرت کی) اجازت طلب کرتے ہوئے عرض کیا: ”مجھے اجازت عطا فرمائیں کہ میں کسی ایسی سرزمین پر چلا جاؤں جہاں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکوں اور مجھے کسی کا خوف نہ ہو“، چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور وہ نجاشی (شاہِ حبشہ) کے پاس پہنچ گئے۔
(راوی کہتے ہیں کہ) پھر مجھے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بتایا، انہوں نے کہا: جب میں نے (حبشہ میں) ان کا مقام و مرتبہ دیکھا تو مجھے ان پر رشک و حسد ہوا، میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خاتمے کے لیے اپنی پوری جان لڑا دوں گا، چنانچہ میں نجاشی کے پاس آیا اور اس کی مجلس میں داخل ہوا، میں نے کہا: آپ کی سرزمین میں ایک ایسا شخص آیا ہے جس کا چچا زاد بھائی ہمارے علاقے میں ہے، اور وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگوں کے لیے ایک ہی معبود کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، اور اللہ کی قسم! اگر آپ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل نہ کیا تو میں اور میرا کوئی بھی ساتھی سمندر کی اس وسعت کو عبور کر کے کبھی آپ کی طرف نہیں آئیں گے، بادشاہ نے کہا: ”اسے بلاؤ“، میں نے عرض کیا: وہ میرے ساتھ نہیں آئے گا، آپ میرے ساتھ اپنا کوئی نمائندہ بھیجیں، چنانچہ وہ (جعفر) آئے، جب وہ دروازے پر پہنچے تو میں نے آواز لگائی: ”عمرو بن العاص کو اندر آنے کی اجازت دی جائے“، تو انہوں نے میرے پیچھے سے پکارا: ”اللہ کے بندے کو اجازت دی جائے“، (سیدنا عمرو کہتے ہیں کہ) بادشاہ نے ان کی آواز سن لی اور مجھ سے پہلے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی، پس وہ اپنے ساتھیوں سمیت داخل ہو گئے، پھر بادشاہ نے مجھے اجازت دی اور میں داخل ہوا تو وہ (نجاشی) اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا، راوی نے تخت پر ان کی نشست کی جگہ کا ذکر کیا، میں نے جب انہیں دیکھا تو ان کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور سیدنا جعفر کو اپنی پیٹھ کے پیچھے کر دیا، اور اپنے ساتھیوں میں سے ایک ایک آدمی کو (مسلمانوں کے) ہر دو آدمیوں کے درمیان بٹھا دیا، نجاشی نے کہا: ”نحّروا نحّروا“ یعنی ”گفتگو کا آغاز کرو“، تو عمرو نے کہا: اس (جعفر) کا چچا زاد بھائی ہمارے علاقے میں ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگوں کے لیے سوائے ایک معبود کے کوئی الٰہ نہیں ہے، اور اللہ کی قسم! اگر آپ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل نہ کیا تو میں اور میرا کوئی بھی ساتھی سمندر کی اس وسعت کو عبور کر کے کبھی آپ کی طرف نہیں آئیں گے، (سیدنا عمرو کہتے ہیں کہ) پھر سیدنا جعفر نے کلمہ شہادت پڑھا اور یہ پہلا موقع تھا جب میں نے کلمہ شہادت سنا، پھر انہوں نے کہا: ”میرے چچا زاد بھائی (نبی ﷺ) نے سچ فرمایا ہے اور میں ان ہی کے دین پر ہوں“، بادشاہ (جذباتی ہو کر) چیخ پڑا اور کہا: ”آہ“، یہاں تک کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ حبشہ کے لوگ اب کچھ نہیں بول پائیں گے، بادشاہ نے کہا: ”یہ تو ویسا ہی نورِ وحی ہے جیسا موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا، تمہارا پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”وہ فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں“، (سیدنا عمرو کہتے ہیں کہ) بادشاہ نے زمین سے کوئی تنکا اٹھایا اور کہا: ”انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس میں سے اس تنکے کے برابر بھی فرق نہیں ہے، اور اگر میری بادشاہت کی ذمہ داری آڑے نہ ہوتی تو میں ضرور تمہاری اتباع کر لیتا“، پھر مجھ سے کہا: ”مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تم یا تمہارا کوئی ساتھی اب کبھی میرے پاس نہ آئے“، اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”جاؤ! تم میری سرزمین میں امن و امان کے ساتھ ہو، جس نے تمہیں تکلیف دی میں اسے قتل کر دوں گا، اور جس نے تمہیں برا بھلا کہا میں اس پر جرمانہ کروں گا“، اور اپنے دربان سے کہا: ”جب بھی یہ شخص (جعفر) میرے پاس آنے کی اجازت مانگے تو اسے اندر آنے دینا، الا یہ کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس ہوں، اور اگر میں اپنے گھر والوں کے پاس ہوں تو اسے مطلع کر دینا، پھر بھی اگر وہ آنا چاہے تو اسے اجازت دے دینا“، (سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) ہم وہاں سے رخصت ہو گئے، اور میری یہ شدید خواہش تھی کہ میں سیدنا جعفر سے تنہائی میں ملوں، پھر ایک بار راستے میں وہ مجھے مل گئے، میں نے دیکھا کہ وہاں کوئی نہیں ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو بھی کوئی نظر نہ آیا، میں ان کے قریب گیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ انہوں نے کہا: «هَدَاكَ اللهُ تَعَالَى، فَاثْبُتْ» ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی ہے، اب اس پر ثابت قدم رہو“، پھر وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔
یہ اسناد حسن ہے، مگر یہ روایت اس مشہور بات کے خلاف ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا اسلام خود نجاشی کے ہاتھ پر ہوا تھا، اس روایت کو نقل کرنے میں عمیر بن اسحاق منفرد ہیں اور ان سے صرف عبداللہ بن عون نے روایت کیا ہے، امام یحییٰ بن معین نے ان کے بارے میں ایک بار کہا کہ ”یہ کچھ نہیں ہے“ (یعنی ضعیف ہیں) جبکہ دوسری جگہ ان کی توثیق کی ہے، اور مجموعی طور پر ان کی حدیث لکھی جا سکتی ہے، نیز امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمیں علم نہیں کہ یہ روایت سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے اس سند کے علاوہ کسی اور طریقے سے مروی ہو۔