المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ هَذِهِ الأمة باب: اس امت کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4184
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي ثَابِتٌ الْأَعْرَجُ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا إِذَا قَالَتْ صَدَقَتْ ، وَإِذَا حَكَمَتْ عَدَلَتْ ، وَإِذَا اسْتُرْحِمَتْ رَحِمَتْ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ امت اس وقت تک مستقل خیر و بھلائی پر قائم رہے گی جب تک کہ اس کا یہ وصف رہے کہ جب وہ کلام کرے تو سچ بولے، جب کوئی فیصلہ یا حکم صادر کرے تو اسے عدل و انصاف پر مبنی رکھے اور جب اس سے رحم و کرم کی التجا کی جائے تو وہ رحم دلی کا برتاؤ کرے۔“
اس روایت کی سند میں اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ کے ضعف کی وجہ سے یہ سنداً ضعیف ہے، تاہم حدیث میں مذکور اخلاقی تعلیمات دیگر صحیح نصوص سے ثابت ہیں۔