❮
❯
حدیث نمبر: 4184
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي ثَابِتٌ الْأَعْرَجُ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا إِذَا قَالَتْ صَدَقَتْ ، وَإِذَا حَكَمَتْ عَدَلَتْ ، وَإِذَا اسْتُرْحِمَتْ رَحِمَتْ .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ امت اس وقت تک مستقل خیر و بھلائی پر قائم رہے گی جب تک کہ اس کا یہ وصف رہے کہ جب وہ کلام کرے تو سچ بولے، جب کوئی فیصلہ یا حکم صادر کرے تو اسے عدل و انصاف پر مبنی رکھے اور جب اس سے رحم و کرم کی التجا کی جائے تو وہ رحم دلی کا برتاؤ کرے۔“
اس روایت کی سند میں اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ کے ضعف کی وجہ سے یہ سنداً ضعیف ہے، تاہم حدیث میں مذکور اخلاقی تعلیمات دیگر صحیح نصوص سے ثابت ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4184
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 799، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9000، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4143/6، 7040»