❮
❯
حدیث نمبر: 4181
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ ، فَارْتَقَى الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، ادْنُوا وَأَوْسِعُوا لِمَنْ خَلْفَكُمْ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَدَنَا النَّاسُ ، وَانْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، وَالْتَفَتُوا فَلَمْ يَرَوْا أَحَدًا ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْنُوا وَأَوْسِعُوا لِمَنْ خَلْفَكُمْ ، فَدَنَا النَّاسُ ، وَانْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، وَالْتَفَتُوا فَلَمْ يَرَوْا أَحَدًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَلَمْ يَرَوْا أَحَدًا ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : لِمَنْ نُوسِعُ ؟ لِلْمَلَائِكَةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، إِنَّهُمْ إِذَا كَانُوا مَعَكَ لَمْ يَكُونُوا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَلَا خَلْفَكُمْ ، وَلَكِنْ عَنْ يَمِينِكُمْ وَعَنْ شِمَالِكُمْ فَقَالَ : وَلَمْ يَكُونُوا بَيْنَ أَيْدِينَا وَلَا خَلْفَنَا ، أَهُمْ أَفْضَلُ مِنَّا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ أَنْتُمْ أَفْضَلُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، اجْلِسْ - فَجَلَسَ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، آپ ﷺ نے کلام فرمانے سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“ کی منادی کی، چنانچہ لوگ آپ ﷺ کے پاس اکٹھے ہو گئے، پھر آپ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! قریب ہو جاؤ اور اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے جگہ کشادہ کر دو“، لوگ قریب ہو گئے اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے مڑ کر دیکھا تو انہیں کوئی نظر نہ آیا، پھر آپ ﷺ نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا: ”قریب ہو جاؤ اور اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے جگہ کشادہ کر دو“، لوگ مزید قریب ہوئے اور ایک دوسرے سے پیوست ہو گئے، انہوں نے مڑ کر دیکھا تو پھر بھی کسی کو نہ پایا، آپ ﷺ نے تیسری بار بھی یہی بات ارشاد فرمائی تو تب بھی انہیں (پیچھے) کوئی نظر نہ آیا، تب ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: ہم کس کے لیے جگہ کشادہ کریں؟ کیا فرشتوں کے لیے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، فرشتے جب تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو وہ تمہارے سامنے یا پیچھے نہیں ہوتے، بلکہ تمہارے دائیں اور بائیں جانب ہوتے ہیں“، اس شخص نے عرض کیا: (اگر) وہ ہمارے سامنے اور پیچھے نہیں ہوتے، تو کیا وہ ہم سے افضل ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ تم فرشتوں سے زیادہ افضل ہو، بیٹھ جاؤ“، چنانچہ وہ شخص بیٹھ گیا۔
اس روایت کی سند سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے، کیونکہ اس میں داود بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ نامی راوی ہیں جو کذاب اور من گھڑت روایات وضع کرنے میں مشہور ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4181
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»